نبیوں کا سردار ﷺ — Page 250
۲۵۰ نبیوں کا سردار اُس وقت تھوڑی دیر کیلئے کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے۔حضرت عمر" مسجد میں تھے جب اُنہوں نے لوگوں کو یہ بات کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو اُنہوں نے نیام سے تلوار نکال لی اور کہا خدا کی قسم! جو شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اُس کا سر اُڑا دوں گا۔ابھی تک منافق دنیا میں باقی ہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہو سکتے۔اگر اُن کی روح جسم سے جدا ہو گئی ہے تو وہ صرف موسٹی کی طرح خدا کی ملاقات کے لئے گئی ہے اور پھر واپس آئے گی اور دنیا سے منافقوں کا قلع قمع کرے گی۔یہ کہا اور نگی تلوار لے کر اس روح فرسا خبر کے صدمہ سے مجنونوں کی طرح ادھر ادھر ٹہلنے لگے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اُسے قتل کر دوں گا۔صحابہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے حضرت عمرؓ کو اس طرح ٹہلتے ہوئے دیکھا تو ہمارے دلوں کو بھی ڈھارس بندھی اور ہم نے کہا عمر سچ کہتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے ضرور اس بارہ میں لوگوں کو غلطی لگی ہے اور عمرہ کے قول کے ساتھ ہم نے اپنے دلوں کو تسلی دینی شروع کی۔اتنے میں بعض لوگوں نے دوڑ کر حضرت ابوبکر کو صورت حالات سے اطلاع دی۔اُن سے اطلاع پا کر حضرت ابوبکر بھی مسجد میں پہنچ گئے مگر کسی سے بات نہ کی سیدھے گھر میں چلے گئے اور جا کر حضرت عائشہ سے پوچھا کیا رسول اللہ علہ فوت ہو گئے ہیں ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا ہاں۔آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے آپ کے منہ پر سے کپڑا اُٹھایا آپ کے ماتھے کو بوسہ دیا اور محبت کے چمکتے ہوئے آنسو آپ کی آنکھوں سے گرے اور آپ نے فرمایا خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔کے یعنی یہ نہیں ہوگا کہ لے مسند ابی حنیفہ کتاب الفضائل بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قول النبی ﷺ لو كنت متخذا خليلا