نبیوں کا سردار ﷺ — Page 247
۲۴۷ نبیوں کا سردار لوگ کاٹیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے کچھ دن تو تکلیف اُٹھا کر بھی مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے آتے رہے۔آخر یہ طاقت بھی نہ رہی کہ آپ مسجد میں آسکتے۔صحابہ کبھی خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ آپ فوت ہو جائیں گے۔مگر آپ بار بار انہیں اپنی وفات کے قرب کی خبر دیتے۔ایک دن صحابہ کی مجلس لگی ہوئی تھی کہ آپ نے فرمایا اگر کسی شخص سے غلطی ہو جائے تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا ازالہ کر دے تا کہ خدا کے سامنے شرمندہ نہ ہو۔اگر میرے ہاتھ سے نادانستہ طور پر کسی کا حق مارا گیا ہوتو وہ مجھ سے اپنا حق مانگ لے۔اگر بے جانے بوجھے مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو آج وہ مجھ سے بدلہ لے لے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ خدا تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہوں۔دوسرے صحابہ پر تو یہ بات سن کر رقت طاری ہو گئی اور ان کے دل میں یہی خیال گزرنے لگے کہ کس طرح تکلیف اُٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے آرام کی صورت پیدا کرتے رہے ہیں۔کس طرح آپ بھوکا رہ کر ان کو کھلاتے رہے ہیں۔اپنے کپڑوں کو پیوند لگا کر اُن کو کپڑے پہناتے رہے ہیں پھر بھی دوسروں کے حقوق کا آپ کو اتنا خیال ہے کہ آپ اُن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر بے جانے بوجھے مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو آج مجھ سے بدلہ لے لے۔مگر ایک صحابی آگے بڑھے اور اُنہوں نے کہا یا رَسُول اللہ ! مجھے آپ سے ایک دفعہ تکلیف پہنچی تھی۔جنگ کی صفیں تیار ہو رہی تھیں کہ آپ صف میں سے ہو کر آگے بڑھے اُس وقت آپ کی کہنی میرے جسم کو لگ گئی تھی۔چونکہ آپ نے فرمایا کہ بے جانے بوجھے بھی اگر کسی کو نقصان پہنچا ہو تو مجھ سے بدلہ لے لے تو میں چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ سے اُس تکلیف کا بدلہ لے لوں۔وہ صحابہ جوغم کے سمندر میں ڈوب رہے تھے یکدم اُن کی حالت میں تغیر پیدا ہوا۔ان کی آنکھوں میں سے خون ٹپکنے لگا اور ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ یہ شخص جس نے ایسے موقع پر بجائے نصیحت حاصل کرنے کے اس قسم کی بات چھیڑ دی ہے سخت سے سخت