نبیوں کا سردار ﷺ — Page 240
۲۴۰ نبیوں کا سردار کر کوئی تقریر کروں گا۔تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے وراثت میں اُس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔کوئی وصیت ایسی جائز نہیں جو دوسرے وارث کے حق کو نقصان پہنچائے۔جو بچہ جس کے گھر میں پیدا ہو وہ اُس کا سمجھا جائے گا اور اگر کوئی بدکاری کی بناء پر اس بچے کا دعوی کرے گا تو وہ خود شرعی سزا کا مستحق ہوگا۔جو شخص کسی کے باپ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے یا کسی کو جھوٹے طور پر اپنا آقا قرار دیتا ہے خدا اور اُس کے فرشتوں اور بنی نوع انسان کی لعنت اُس پر ہے۔اے لوگو! تمہارے کچھ حق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حق تم پر ہیں۔ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ عفت کی زندگی بسر کریں اور ایسی کمینگی کا طریق اختیار نہ کریں جس سے خاوندوں کی قوم میں بے عزتی ہو۔اگر وہ ایسا کریں تو تم ( جیسا کہ قرآن کریم کی ہدایت ہے کہ با قاعدہ تحقیق اور عدالتی فیصلہ کے بعد ایسا کیا جا سکتا ہے ) انہیں سزا دے سکتے ہو مگر اس میں بھی سختی نہ کرنا۔لیکن اگر وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرتیں جو خاندان اور خاوند کی عزت کو بٹہ لگانے والی ہو تو تمہارا کام ہے کہ تم اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خوراک اور لباس وغیرہ کا انتظام کرو۔اور یا درکھو کہ ہمیشہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے۔عورت کمزور وجود ہوتی ہے اور وہ اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کر سکتی۔تم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تو خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کا ضامن بنایا تھا اور خدا تعالیٰ کے قانون کے