نبیوں کا سردار ﷺ — Page 239
۲۳۹ نبیوں کا سردار گے، وہ گرا دی جائے اور اُن کو مجبور کیا جائے کہ وہ مسلمانوں کی دوسری مسجدوں میں نماز پڑھا کریں، مگر با وجود اتنی بڑی شرارت کے ان کو کوئی بدنی یا مالی سزا نہ دی گئی۔تبوک سے واپسی کے بعد طائف کے لوگوں نے بھی آکر اطاعت قبول کر لی اور اس کے بعد عرب کے متفرق قبائل نے باری باری آکر اسلامی حکومت میں داخلہ کی اجازت چاہی اور تھوڑے ہی عرصہ میں سارے عرب پر اسلامی جھنڈا لہرانے لگا۔صلى الله۔حجۃ الوداع اور آنحضرت علی کا ایک خطبہ نویں سال ہجری میں آپ نے مکہ کا حج فرمایا اور اُس دن آپ پر قرآن شریف کی یہ مشہور آیت نازل ہوئی کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا لے یعنی آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور جتنے روحانی انعامات خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر نازل ہو سکتے ہیں وہ سب میں نے تمہاری اُمت کو بخش دیئے ہیں اور اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ تمہارا دین خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مبنی ہو۔یہ آیت آپ نے مزدلفہ کے میدان میں جبکہ حج کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں سب لوگوں کے سامنے با آواز بلند پڑھ کر سنائی۔مزدلفہ سے کوٹنے پر حج کے قواعد کے مطابق آپ منی میں ٹھہرے اور گیارھویں ذوالحجہ کو آپ نے تمام مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس کا مضمون یہ تھا۔”اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد کبھی بھی میں تم لوگوں کے درمیان اس میدان میں کھڑے ہو المائدة: ۴