نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 238

۲۳۸ نبیوں کا سردار کے تابع تھے۔جب آپ شام کے قریب تبوک مقام پر پہنچے تو آپ نے ادھر ادھر آدمی بھیجے تا کہ وہ معلوم کریں کہ حقیقت کیا ہے اور یہ سفراء متفقہ طور پر یہ خبریں لائے کہ کوئی شامی لشکر اس وقت جمع نہیں ہو رہا۔اس پر کچھ دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے اور اردگرد کے بعض قبائل سے معاہدات کر کے بغیر لڑائی کے واپس آگئے۔یہ کل سفر آپ کا دواڑھائی مہینے کا تھا۔جب مدینہ کے منافقوں کو معلوم ہوا کہ لڑائی بھڑائی تو کچھ نہیں ہوئی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے واپس آرہے ہیں تو انہوں نے سمجھ لیا کہ ہماری منافقانہ چالوں کا راز آب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہو گیا ہے اور غالباً اب ہم سزا سے نہیں بچیں گے۔تب انہوں نے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر چند آدمی ایک ایسے رستہ پر بٹھا دیئے جو نہایت تنگ تھا اور جس پر صرف ایک ایک سوار گز رسکتا تھا۔جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے وحی سے بتادیا کہ آگے دشمن راستہ کے دونوں طرف چھپا بیٹھا ہے۔آپ نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ جاؤ اور وہاں جا کر دیکھو۔وہ سواری کو تیز کر کے وہاں پہنچے تو انہوں نے وہاں چند آدمی چھپے ہوئے دیکھے جو اس طرح چھپے بیٹھے تھے جیسا کہ حملہ کرنے والے بیٹھا کرتے ہیں۔ان کے پہنچنے پر وہ وہاں سے بھاگ گئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا تعاقب کرنا مناسب نہ معلوم ہوا۔جب آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں نے جو اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے قسم قسم کی معذرتیں کرنی شروع کر دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو قبول کر لیا۔لیکن اب وقت آگیا تھا کہ منافقوں کی حقیقت مسلمانوں پر آشکارا کر دی جائے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وحی سے حکم دیا کہ قبا کی وہ مسجد جو منافقوں نے اِ س لئے بنائی تھی کہ نماز کے بہانہ سے وہاں جمع ہوا کریں گے اور منافقانہ مشورے کیا کریں