نبیوں کا سردار ﷺ — Page 236
۲۳۶ نبیوں کا سردار کیلئے آسکتے تھے۔چنانچہ ہرشخص قربانی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔حضرت عثمان نے اُس دن اپنے روپے کا اکثر حصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا جو ایک ہزار سونے کا دینار تھا یعنی قریباً ۲۵ ہزار روپیہ۔اسی طرح اور صحابہ نے اپنی اپنی توفیق کے مطابق چندے دیئے اور غریب مسلمانوں کے لئے سواریاں یا تلواریں یا نیزے مہیا کئے گئے۔صحابہ میں قربانی کا اس قدر جوش تھا کہ یمن کے کچھ لوگ جو اسلام لا کر مدینہ میں ہجرت کر آئے تھے اور بہت ہی غربت کی حالت میں تھے ان کے کچھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا، یا رَسُول اللہ ! ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلیے ہم کچھ اور نہیں چاہتے ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں وہاں تک پہنچنے کا سامان مل جائے۔قرآن کریم میں ان لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ مِن تَوَلَّوا وَأَعْيُتُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنَا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ یعنی اس جنگ میں شریک نہ ہونے کا ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو تیرے پاس اس لئے آتے ہیں کہ تو ان کے لئے ایسا سامان مہیا کر دے جس کے ذریعہ سے وہ وہاں پہنچ سکیں مگر تو نے انہیں کہا کہ میرے پاس تو تمہیں وہاں پہنچانے کا کوئی سامان نہیں۔تب وہ تیری مجلس سے اٹھ کر چلے گئے اور اُن کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہتے تھے کہ افسوس ان کے پاس کوئی مال نہیں جس کو خرچ کر کے وہ آج اسلامی خدمت کر سکیں۔ابو موسیٰ ان لوگوں کے سردار تھے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مانگا تھا ؟ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم ! ہم نے اونٹ نہیں مانگے ، ہم نے گھوڑے نہیں مانگے ، ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ ہم ننگے پاؤں ہیں اور اتنا لمبا سفر پیدل نہیں چل سکتے اگر ہم کو صرف جو نتیوں کے جوڑے مل جائیں تو ہم التوبة : ٩٢