نبیوں کا سردار ﷺ — Page 227
۲۲۷ نبیوں کا سردار جب مسلمان کافی آگے بڑھ چکے اور کمین گاہ کے سپاہیوں نے دیکھا کہ اب ہم اچھی طرح حملہ کر سکتے ہیں تو اگلی کھڑی فوج نے سامنے سے حملہ کر دیا اور پہلوؤں سے تیر اندازوں نے بے تحاشا تیر برسانے شروع کر دیئے۔مکہ کے لوگ جو یہ سمجھ کر ساتھ شامل ہوئے تھے کہ آج ہم کو بھی بہادری دکھانے کا موقع ملے گا اس دو طرفہ حملہ کی برداشت نہ کر سکے اور واپس مکہ کی طرف بھاگے۔مسلمان گو اس قسم کی تکالیف اُٹھانے کے عادی تھے مگر جب دو ہزار گھوڑے اور اونٹ اُن کی صفوں میں سے بے تحاشا بھاگتے ہوئے نکلے تو ان کے گھوڑے اور اُونٹ بھی ڈر گئے اور سارے کا سارا لشکر بے تحاشا پیچھے کی طرف دوڑ پڑا۔تین طرف کے حملہ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ ۱۲ صحابی کھڑے رہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ سارے صحابہؓ بھاگ گئے تھے بلکہ ۱۰۰ کے قریب اور آدمی بھی میدان میں کھڑے رہے تھے مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فاصلہ پر تھے۔آپ کے گرد صرف ایک درجن قریب آدمی رہ گئے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں اور میرے ساتھی بے تحاشا زور لگاتے تھے کہ کسی طرح ہماری سواری کے جانور میدانِ جنگ کی طرف آئیں لیکن دو ہزار اونٹوں کے بھاگنے کی وجہ سے وہ ایسے بدک گئے تھے کہ ہمارے ہاتھ باگیں کھینچتے کھینچتے زخمی ہو ہو جاتے تھے مگر اُونٹ اور گھوڑے واپس لوٹنے کا نام نہیں لیتے تھے۔بعض دفعہ ہم باگیں اس زور سے کھینچتے تھے کہ مرکب کا سر اُس کی پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔مگر پھر جب ایڑی دے کر ہم اُس کو پیچھے میدانِ جنگ کی طرف موڑتے تو وہ بجائے پیچھے کوٹنے کے اور بھی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بھاگتا۔ہمارا دل دھڑک رہا تھا کہ پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہو گا مگر ہم بالکل بے بس تھے۔ادھر تو صحابہ کی یہ حالت تھی اور اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف چند آدمیوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں کھڑے تھے۔دائیں اور بائیں اور سامنے تینوں طرف سے تیر پڑ رہے