نبیوں کا سردار ﷺ — Page 228
۲۲۸ نبیوں کا سردار لے تھے اور پیچھے کی طرف صرف ایک تنگ راستہ تھا جس میں سے ایک وقت میں صرف چند آدمی ہی گزر سکتے تھے مگر پھر بھی سوائے اُس راستہ کے اور کوئی نجات کی راہ نہیں تھی۔اُس وقت حضرت ابوبکر نے اپنی سواری سے اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی باگ پکڑ لی اور عرض کی يَا رَسُولَ اللہ تھوڑی دیر کے لئے پیچھے ہٹ آئیں یہاں تک کہ اسلامی لشکر جمع ہو جائے۔آپ نے فرمایا ابوبکر ! میری خچر کی باگ چھوڑ دو اور پھر خچر کو ایڑی لگاتے ہوئے آپ نے اُس تنگ راستہ پر آگے بڑھنا شروع کیا جس کے دائیں بائیں کمین گاہوں میں بیٹھے ہوئے سپاہی تیراندازی کر رہے تھے اور فرمایا۔انا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ میں خدا کا نبی ہوں میں جھوٹا نہیں ہوں۔مگر یہ بھی یادرکھو کہ اس وقت خطرہ کے مقام پر کھڑے ہوئے بھی جو میں دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ میرے اندر خدائی کا کوئی مادہ پایا جاتا ہے بلکہ میں انسان ہی ہوں اور عبد المطلب کا پوتا ہوں۔پھر آپ نے حضرت عباس " کو جن کی آواز بہت بلند تھی آگے بلایا اور فرمایا۔عباس ! بلند آواز سے پکار کر کہو کہ اے وہ صحابہ! جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورہ بقرہ کے زمانہ سے مسلمان ہو! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔حضرت عباس نے نہایت ہی بلند آواز سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنایا، تو اُس وقت صحابہ کی جو حالت ہوئی اُس کا اندازہ صرف اُنہی کی زبان سے حالات سن کر لگایا جاسکتا ہے۔وہی صحابی جن کا میں نے اُوپر ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم اونٹوں اور گھوڑوں کو واپس لانے کی کشمکش میں تھے کہ عباس کی آواز ہمارے کانوں میں پڑی۔اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم اس دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہیں اور اُس کے مسلم كتاب الجهاد و السير باب غزوة حنين