نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 218

۲۱۸ نبیوں کا سردار کے سامان بھجوائیو۔اور یہ بھی کہو کہ حق آگیا ہے اور باطل یعنی شرک شکست کھا کے بھاگ گیا ہے اور باطل یعنی شرک کے لئے شکست کھا کر بھا گنا تو ہمیشہ کے لئے مقدر تھا۔اس پیشگوئی کے لفظاً لفظاً پورا ہونے اور حضرت ابوبکر کے اس کو تلاوت کرتے وقت مسلمانوں اور کفار کے دلوں میں جو جذبات پیدا ہوئے ہوں گے وہ لفظوں میں ادا نہیں ہو سکتے۔غرض اُس دن ابراہیم کا مقام پھر خدائے واحد کی عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا اور بت ہمیشہ کے لئے توڑے گئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبل نامی بت کے اوپر اپنی چھڑی ماری اور وہ اپنے مقام سے گر کر ٹوٹ گیا تو حضرت زبیر نے ابوسفیان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا ابوسفیان! یاد ہے اُحد کے دن جب مسلمان زخموں سے چورا یک طرف کھڑے ہوئے تھے تم نے اپنے غرور میں یہ اعلان کیا تھا اُعْلُ هُبَلْ أَعْلُ هُبَل۔هَبَلْ کی شان بلند ہو، ھبل کی شان بلند ہو۔اور یہ کہ ہبل نے ہی تم کو اُحد کے دن مسلمانوں پر فتح دی تھی۔آج دیکھتے ہو وہ سامنے ھبل کے ٹکڑے پڑے ہیں۔ابوسفیان نے کہا زبیر ! یہ باتیں جانے بھی دو۔آج ہم کو اچھی طرح نظر آ رہا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے سوا کوئی اور خدا بھی ہوتا تو آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس طرح کبھی نہ ہوتا ہے پھر آپ نے خانہ کعبہ کے اندر جو تصویر میں حضرت ابراہیم وغیرہ کی بنی ہوئی تھیں ان کے مٹانے کا حکم دیا اور خانہ کعبہ میں خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے شکریہ میں دو رکعت نماز پڑھی پھر باہر تشریف لائے اور باہر آ کر بھی دو رکعت نماز پڑھی۔خانہ کعبہ کی تصویروں کو مٹانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو مقرر فرمایا تھا ؟ انہوں نے اس خیال سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو ہم بھی ل السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۹۹ مطبوعه مصر ۱۹۳۵ء