نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 219

۲۱۹ نبیوں کا سردار نبی مانتے ہیں حضرت ابراہیم کی تصویر کو نہ مٹایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اُس تصویر کو قائم دیکھا تو فرمایا عمر ! تم نے یہ کیا کیا ؟ کیا خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِ کین کے یعنی ابراہیم نہ یہودی تھا نہ نصرانی بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا کامل فرمانبردار اور خدا تعالی کی ساری صداقتوں کو ماننے والا اور خدا کا موحد بندہ تھا۔چنانچہ آپ کے حکم سے یہ تصویر بھی مٹادی گئی۔خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ کر مسلمانوں کے دل اُس دن ایمان سے اتنے پر ہورہے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر ان کا یقین اس طرح بڑھ رہا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زمزم کے چشمہ سے (جو اسمعیل بن ابراہیم کے لئے خدا تعالیٰ نے بطور نشان پھاڑا تھا ) پانی پینے کے لئے منگوایا اور اُس میں سے کچھ پانی پی کے باقی پانی سے آپ نے وضو فر ما یا تو آپ کے جسم میں سے کوئی قطرہ زمین پر نہیں گر سکا۔مسلمان فوراً اُس کو اُچک لے جاتے اور تبرک کے طور پر اپنے جسم پر مل لیتے تھے اور مشرک کہہ رہے تھے ہم نے کوئی بادشاہ دنیا میں ایسا نہیں دیکھا جس کے ساتھ اس کے لوگوں کو اتنی محبت ہوسے جب آپ ان باتوں سے فارغ ہوئے اور مکہ والے آپ کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو آپ نے فرمایا اے مکہ کے لوگو! تم نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کے نشانات کس طرح لفظ بلفظ پورے ہوئے ہیں اب بتاؤ کہ تمہارے ان ظلموں اور ان شرارتوں کا کیا بدلہ دیا جائے جو تم نے خدائے واحد کی عبادت کرنے والے غریب بندوں پر کئے تھے؟ مکہ کے لوگوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ل السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۱۰۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء + ال عمران: ۶۸ السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۱۰۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء