نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 216

۲۱۶ نبیوں کا سردار میری ہجرت کے بعد میرے رشتہ داروں نے میری ساری جائیداد بیچ باچ کر کھالی ہے اب مکہ میں میرے لیے کوئی ٹھکانا نہیں۔پھر آپ نے فرمایا ہم حیف بنی کنانہ میں ٹھہریں گے۔یہ مکہ کا ایک میدان تھا جہاں قریش اور کنا نہ قبیلہ نے مل کر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر ہمارے حوالہ نہ کر دیں اور ان کا ساتھ نہ چھوڑ دیں ہم ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ خریدوفروخت کریں گے۔اس عہد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چا ابوطالب اور آپ کی جماعت کے تمام افراد وادی ابو طالب میں پناہ گزین ہوئے تھے اور تین سال کی شدید تکلیفوں کے بعد خدا تعالیٰ نے انہیں نجات دلائی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب کیسا لطیف تھا۔مکہ والوں نے اسی مقام پر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سپرد نہ کر دیئے جائیں ہم آپ کے قبیلہ سے صلح نہیں کریں گے۔آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُسی میدان میں جا کر اُترے اور گو یا مکہ والوں سے کہا کہ جہاں تم چاہتے تھے میں وہاں آ گیا ہوں مگر بتاؤ تو سہی کیا تم میں طاقت ہے کہ آج مجھے اپنے ظلوں کا نشانہ بنا سکو!! وہی مقام جہاں تم مجھے ذلیل اور مقہور شکل دیکھنا چاہتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ میری قوم مجھے پکڑ کر اس جگہ تمہارے سپر د کر دے وہاں میں ایسی شکل میں آیا ہوں کہ میری قوم ہی نہیں سارا عرب بھی میرے ساتھ ہے اور میری قوم نے مجھے تمہارے سپر دنہیں کیا بلکہ میری قوم نے تمہیں میرے سپر د کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ دن بھی پیر کا دن تھا۔وہی دن جس دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور سے نکل کر صرف ابوبکر" کی معیت میں مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔وہی دن جس میں آپ نے حسرت کے ساتھ ٹور کی پہاڑی پر سے مکہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔اے مکہ! تو مجھے دنیا کی ساری بستیوں سے زیادہ پیارا ہے لیکن تیرے باشندے مجھے اس جگہ