نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 215

۲۱۵ نبیوں کا سردار پڑے، جن کے متعلق امان کا اعلان کیا گیا تھا لے صرف گیارہ مرد اور چار عورتیں ایسی تھیں جن کی نسبت شدید ظالمانہ قتل اور فساد ثابت تھے ، وہ گویا جنگی مجرم تھے اور ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ قتل کر دیئے جائیں کیونکہ وہ صرف کفر یا لڑائی کے مجرم نہیں بلکہ جنگی مجرم ہیں۔اس موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو بڑی سختی سے حکم دے دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص لڑے نہیں تم نے لڑنا نہیں۔لیکن جس طرف سے خالد شہر میں داخل ہوئے اُس طرف امن کا اعلان ابھی نہیں پہنچا تھا اُس علاقہ کی فوج نے خالد کا مقابلہ کیا اور ۲۴ آدمی مارے گئے۔چونکہ خالد کی طبیعت بڑی جو شیلی تھی کسی نے دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچادی اور عرض کیا کہ خالد کو روکا جائے ورنہ وہ سارے مکہ والوں کو قتل کر دے گا۔آپ نے فوراً خالد کو بلوایا اور فرمایا کیا میں نے تم کو لڑائی سے منع نہیں کیا تھا؟ خالد نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ نے منع تو فرمایا تھا لیکن ان لوگوں نے پہلے ہم پر حملہ کیا اور تیراندازی شروع کر دی میں کچھ دیر تک رُکا اور میں نے کہا کہ ہم تم پر حملہ نہیں کرنا چاہتے تم ایسا مت کرو۔مگر جب میں نے دیکھا کہ یہ کسی طرح باز نہیں آتے تو پھر میں اُن سے لڑا اور خدا نے اُن کو چاروں طرف پراگندہ کر دیا۔سے بہر حال اس خفیف سے واقعہ کے سوا اور کوئی واقعہ نہ ہوا اور مکہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبضہ ہو گیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے آپ سے لوگوں نے پوچھا۔یا رَسُول اللہ ! کیا آپ اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ( یہ آپ کے چا زاد بھائی تھے ) ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا بھی ہے؟ یعنی سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحه ۴۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ ء السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۹۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء