نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 214

۲۱۴ نبیوں کا سردار میرے واقف ہیں میری عیادت کے لیے نہیں آئے۔ان کے دوستوں نے کہا آپ بڑے مخیر آدمی ہیں آپ ہر شخص کو اُس کی تکلیف کے وقت قرضہ دے دیتے ہیں۔شہر کے بہت سے لوگ آپ کے مقروض ہیں اور وہ اس لئے آپ کی عیادت کے لئے نہیں آئے کہ شاید آپ کو ضرورت ہو اور آپ اُن سے روپیہ مانگ بیٹھیں۔آپ نے فرمایا اوہو! میرے دوستوں کو بلا وجہ تکلیف ہوئی میری طرف سے تمام شہر میں منادی کردو کہ ہر شخص جس پر قیس کا قرضہ ہے وہ اُسے معاف ہے۔اس پر اس قدر لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے کہ ان کے مکان کی سیڑھیاں ٹوٹ گئیں لے بلشکر گزر چکا تو عباس نے ابوسفیان سے کہا۔اب اپنی سواری دوڑا کر مکہ پہنچو اور اُن لوگوں کو اطلاع دے دو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں اور انہوں نے اس اس شکل میں مکہ کے لوگوں کو امان دی ہے۔جب کہ ابوسفیان اپنے دل میں خوش تھا کہ میں نے مکہ کے لوگوں کی نجات کا رستہ نکال لیا ہے اُس کی بیوی ہندہ نے جو ابتدائے اسلام سے مسلمانوں سے بغض اور کینہ رکھنے کی لوگوں کو تعلیم دیتی چلی آئی تھی اور باوجود کا فر ہونے کے فی الحقیقت ایک بہادر عورت تھی آگے بڑھ کر اپنے خاوند کی ڈاڑھی پکڑ لی اور مکہ والوں کو آواز میں دینی شروع کیں کہ آؤ اور اس بڑھے احمق کو قتل کر دو کہ بجائے اس کے کہ تم کو یہ نصیحت کرتا کہ جاؤ اور اپنی جانوں اور اپنے شہر کی عزت کے لئے لڑتے ہوئے مارے جاؤ یہ تم میں امن کا اعلان کر رہا ہے۔ابوسفیان نے اُس کی حرکت کو دیکھ کر کہا۔بے وقوف ! یہ ان باتوں کا وقت نہیں جا اور اپنے گھر میں چھپ جا۔میں اُس لشکر کو دیکھ کر آیا ہوں جس لشکر کے مقابلہ کی طاقت سارے عرب میں نہیں ہے۔پھر ابوسفیان نے بلند آواز سے امان کی شرائط بیان کرنا شروع کیں اور لوگ بے تحاشا اُن گھروں اور اُن جگہوں کی طرف دوڑ لى السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۹۵ مطبوع مصر ۱۹۳۵ء