نبیوں کا سردار ﷺ — Page 192
۱۹۲ نبیوں کا سردار ایک نشان پر دلالت کرتا ہے اور دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ پر۔نشان تو یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد جب خیبر کے رئیس کنانہ کی بیوی صفیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تو آپ نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر کچھ لمبے لمبے نشان ہیں۔آپ نے فرمایا صفیہ ! تمہارے یہ نشان کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رَسُول اللہ! ایک دن میں نے ایک خواب دیکھی کہ چاند گر کر میری جھولی میں آپڑا ہے۔میں نے دوسرے دن یہ خواب اپنے خاوند کو سنائی میرے خاوند نے کہا یہ عجیب خواب ہے تمہارا باپ بڑا عالم آدمی ہے اُس کو چل کر یہ خواب سنانی چاہئے۔چنانچہ میں نے اپنے باپ سے اس کا ذکر کیا تو خواب سنتے ہی اُس نے زور سے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا نالائق ! کیا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے! سے یہ اس نے اس لئے کہا کہ عرب کا قومی نشان چاند تھا۔اگر کوئی خواب میں یہ دیکھتا کہ چاند اس کی جھولی میں آپڑا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کے بادشاہ کے ساتھ اس کا تعلق ہو گیا ہے اور اگر کوئی خواب دیکھتا کہ چاند پھٹ گیا ہے یا گر گیا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کی حکومت میں تفرقہ پڑ گیا ہے یا وہ تباہ ہوگئی ہے۔یہ خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا ایک نشان ہے اور اس بات کا بھی نشان ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب کی خبریں دیتا رہتا ہے۔گومؤمنوں کو زیادہ اور غیر مؤمنوں کو کم۔حضرت صفیہ ابھی یہودی ہی تھیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے یہ مصفی غیب عطا فر مایا جس کے مطابق ان کا خاوند معاہدہ کی خلاف ورزی کی سزا میں مارا گیا اور وہ باوجود اس کے کہ ایک اور صحابی کی قید میں گئی تھیں بعض لوگوں کے اصرار پر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور اس طرح وہ غیب پورا ہوا جو خدا تعالیٰ نے انہیں بتایا تھا۔دوسرا قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ خیبر کے محاصرہ کے دنوں میں ایک یہودی رئیس کا گلہ سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۳۵۱٬۳۵۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء