نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 187

۱۸۷ نبیوں کا سردار اُن کی قوم نے دُکھ دیا لیکن عیسی نے یہ دعا نہ کی کہ وہ ہلاک ہو جائیں۔بادشاہ نے سن کر کہا کہ تم ایک عقلمند کی طرف سے ایک عظمند سفیر ہو اور تم نے خوب جواب دیا ہے۔اس پر حاطب نے کہا اے بادشاہ! تجھ سے پہلے ایک بادشاہ تھا جو کہا کرتا تھا کہ میں بڑا رب ہوں یعنی فرعون۔آخر خدا نے اُس پر عذاب نازل کیا۔پس تو تکبر نہ کر اور خدا کے اس نبی پر ایمان لے آ اور خدا کی قسم ! موسیٰ نے عیسی کے متعلق ایسی خبریں نہیں دیں جیسی عیسی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دی ہیں اور ہم تمہیں اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتے ہیں جس طرح تم لوگ یہودیوں کو عیسی کی طرف بلاتے ہو اور ہر نبی کی ایک امت ہوتی ہے اور اُس کا فرض ہوتا ہے کہ اُس کی اطاعت کرے۔پس جبکہ تم نے اس نبی کا زمانہ پایا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کو قبول کرو اور ہمارا دین تم کو مسیح کی اتباع سے روکتا نہیں بلکہ ہم تو دوسروں کو بھی حکم دیتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان لائیں۔اس پر مقوقس نے کہا میں نے اس نبی کے حالات سنے ہیں اور میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وہ کسی بُری بات کا حکم نہیں دیتا اور کسی اچھی بات سے روکتا نہیں اور میں نے معلوم کیا ہے کہ وہ شخص ساحروں اور کا ہنوں کی طرح نہیں ہے اور میں نے بعض اس کی پیشگوئیاں سنی ہیں جو پوری ہوئی ہیں۔پھر اُس نے ایک ڈبیہ ہاتھی دانت کی منگوائی اور اُس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط رکھ دیا اور اُس پر مہر لگا دی اور اپنی ایک لونڈی کے سپر د کر دیا اور پھر اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یہ خط لکھا: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ محمد بن عبد اللہ کی طرف مقوقس قبط کا بادشاہ خط لکھتا ہے کہ آپ پر سلامتی ہو۔اس کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے آپ کا خط پڑھا ہے اور جو کچھ اس میں آپ نے ذکر کیا ہے اور جن باتوں کی طرف بلایا ہے اُن پر غور کیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی