نبیوں کا سردار ﷺ — Page 186
۱۸۶ نبیوں کا سردار مقوقس شاہ مصر کے نام خط چوتھا خط آپ نے مقوقس بادشاہ مصر کی طرف لکھا تھا اور یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی معرفت آپ نے بھجوایا۔اس کا مضمون یہ تھا:۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللَّهِ إِلَى الْمَقَوْقَسِ عَظِيمٍ الْقِبْطِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمُ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِن تَوَلَّيْتَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ إِثْمُ الْقِبْطِ وَيَا أَهْلَ الْكِتَب تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَن لَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ یہ خط بعینہ وہی ہے جو روم کے بادشاہ کو لکھا گیا تھا، صرف یہ فرق ہے کہ اُس میں یہ لکھا تھا کہ اگر تم نہ مانے تو رومی رعایا کے گناہوں کا بوجھ بھی تم پر ہو گا اور اس میں یہ تھا کہ قبطیوں کے گناہوں کا بوجھ تم پر ہو گا۔جب حاطب مصر پہنچے تو اُس وقت مقوقس اپنے دار الحکومت میں نہیں تھا بلکہ اسکندریہ میں تھا۔حاطب اسکندریہ گئے جہاں بادشاہ نے سمندر کے کنارے ایک مجلس لگائی ہوئی تھی۔حاطب ایک کشتی میں سوار ہو کر اُس مقام تک گئے اور چونکہ اردگرد پہرہ تھا اُنہوں نے دور سے خط کو بلند کر کے آوازیں دینی شروع کیں۔بادشاہ نے حکم دیا کہ اس شخص کو لایا جائے اور اس کی خدمت میں پیش کیا جائے۔بادشاہ نے خط پڑھا اور حاطب سے کہا اگر یہ سچا نبی ہے تو اپنے دشمنوں کے خلاف دعا کیوں نہیں کرتا؟ حاطب نے کہا کہ تم عیسی بن مریم پر تو ایمان لاتے ہو۔یہ کیا بات ہے کہ عیسی کو ل السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۲۸۰-۲۸۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء