نبیوں کا سردار ﷺ — Page 167
۱۶۷ نبیوں کا سردار سب سے پہلے بدیل نامی ایک سردار آپ سے بات کرنے کے لئے بھیجا گیا۔جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا۔میں تو صرف طواف کرنے کے لئے آیا ہوں۔ہاں مکہ والے اگر ہمیں مجبور کریں تو ہمیں لڑنا پڑے گا۔اس کے بعد مکہ کے کمانڈ رابوسفیان کا داماد عروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نہایت گستاخانہ طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا کہ یہ اوباشوں کا گروہ آپ اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں مکہ والے انہیں کسی صورت میں بھی اپنے شہر میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔اسی طرح یکے بعد دیگرے پیغامبر آتے رہے۔آخر مکہ والوں نے کہلا بھیجا کہ خواہ کچھ ہو جائے اس سال تو ہم آپ کو طواف نہیں کرنے دیں گے کیونکہ اس میں ہماری ہتک ہے۔ہاں اگر آپ اگلے سال آئیں تو ہم آپ کو اجازت دے دیں گے۔بعض اردگرد کے لوگوں نے مکہ والوں سے اصرار کیا کہ یہ لوگ صرف طواف کے لئے آئے ہیں آپ ان کو کیوں روکتے ہیں مگر مکہ کے لوگ اپنی ضد پر قائم رہے۔اس پر بیرونی قبائل کے لوگوں نے مکہ والوں سے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ طریق بتاتا ہے کہ آپ کو شرارت مد نظر ہے صلح مدنظر نہیں اس لئے ہم لوگ آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں۔اس پر مکہ کے لوگ ڈر گئے اور اُنہوں نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ سمجھوتہ کی کوشش کریں گے۔جب اس امر کی اطلاع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے حضرت عثمان کو جو بعد میں آپ کے تیسرے خلیفہ ہوئے مکہ والوں سے بات چیت کرنے کے لئے بھیجا۔جب حضرت عثمان مکہ پہنچے تو چونکہ مکہ میں اُن کی بڑی وسیع رشتہ داری تھی اُن کے رشته دار اُن کے گردا کٹھے ہو گئے اور اُن سے کہا کہ آپ طواف کر لیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال آکر طواف کریں۔مگر عثمان نے کہا کہ میں اپنے آقا کے بغیر طواف نہیں کر سکتا۔چونکہ رؤسائے مکہ سے آپ کی گفتگو لمبی ہو گئی ، مکہ میں بعض لوگوں نے