نبیوں کا سردار ﷺ — Page 158
۱۵۸ نبیوں کا سردار حملہ کرنا چاہتے تھے ہم کس طرح سمجھیں کہ ہم تم سے مامون اور محفوظ ہیں بلکہ اُس کی بات کو قبول کرلو اور یہ مجھو کہ اگر پہلے اُس کا ارادہ بھی تھا توممکن ہے بعد میں اس میں تبدیلی پیدا ہو گئی ہو۔تم خود اس بات کے زندہ گواہ ہو کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے تم پہلے اسلام کے دشمن تھے مگر اب تم اسلام کے سپاہی ہو۔(1) پھر دشمنوں سے عہد کے متعلق فرماتا ہے إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدُتُم مِّن الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْن لے یعنی مشرکوں میں سے وہ جنہوں نے تم سے کوئی عہد کیا تھا اور پھر اُنہوں نے اُس عہد کو توڑا نہیں اور تمہارے خلاف تمہارے دشمنوں کی مدد نہیں کی ، عہد کی مدت تک تم بھی پابند ہو کہ معاہدہ کو قائم رکھو۔یہی تقویٰ کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔(۷) ایسے دشمنوں کے متعلق جو برسر جنگ ہوں لیکن اُن میں سے کوئی شخص اسلام کی حقیقت معلوم کرنا چاہے فرماتا ہے وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ۔لے یعنی اگر بر سر جنگ مشرکوں میں سے کوئی شخص اس لئے پناہ مانگے کہ وہ تمہارے ملک میں آکر اسلام کی تحقیقات کرنا چاہتا ہے تو اُس کو ضرور پناہ دو اتنے عرصہ تک کہ وہ اچھی طرح اسلام کی تحقیقات کرلے اور قرآن کریم کے مضامین سے واقف ہو جائے۔پھر اس کو اپنی حفاظت میں اُس مقام تک پہنچا دو جہاں وہ جانا چاہتا ہے اور جسے اپنے لئے امن کا مقام سمجھتا ہے۔(۸) جنگی قیدیوں کے متعلق فرماتا ہے مَا كَانَ لِنَبِي أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُفْضِنَ فِي الْأَرْضِ سے یعنی کسی نبی کی شان کے مطابق یہ بات نہیں کہ وہ اپنے دشمن کے التوبة : ۴ التوبة : الانفال: ۶۸