نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 10

ا۔نبیوں کا سردار ہوئے۔عرب سے باہر آپ کو دو تین دفعہ جانے کا موقع ملا۔جن میں سے ایک سفر آپ نے بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ کیا جو کہ تجارت کے لئے شام کی طرف گئے تھے۔یہ سفر آپ کا غالباً شام کے جنوب مشرقی تجارتی شہروں تک ہی محدود تھا کیونکہ اس سفر میں بیت المقدس وغیرہ جگہوں میں سے کسی کا ذکر نہیں آتا۔اس کے بعد آپ جوانی تک مکہ میں ہی مقیم رہے۔مجلس حلف الفضول میں آپ کی شمولیت آپ کی طبیعت بچپن سے ہی سوچنے اور فکر کرنے کی طرف مائل تھی اور لوگوں کی لڑائیوں جھگڑوں میں آپ دخل نہیں دیا کرتے تھے بلکہ لڑائیوں اور فسادوں کے دُور کرانے میں حصہ لیتے تھے چنانچہ مکہ اور اس کے گردونواح کے قبائل کی لڑائیوں سے تنگ آ کر جب مکہ کے کچھ نو جوانوں نے ایک انجمن بنائی جس کی غرض یہ تھی کہ وہ مظلوموں کی مدد کیا کرے گی ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے شوق سے اُس مجلس میں شامل ہو گئے۔اس مجلس کے ممبروں نے اِن الفاظ میں قسمیں کھائی تھیں کہ : وہ مظلوموں کی مدد کریں گے اور اُن کے حق اُن کو لے کر دیں گے جب تک کہ سمندر میں ایک قطرہ پانی کا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے تو وہ خود اپنے پاس سے مظلوم کا حق ادا کر دیں گئے، لے شاید اس قسم پر عمل کرنے کا موقع آپ کے سوا اور کسی کو نہیں ملا۔جب آپ نے دعوئی نبوت کیا اور سب سے زیادہ مکہ کے سردار ابو جہل نے آپ کی مخالفت میں حصہ لیا اور لوگوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کوئی بات نہ کرے۔اُن کی کوئی بات نہ ل السيرة الحلبية جلد ا صفحه ۱۵۴ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۵ء