نبیوں کا سردار ﷺ — Page 129
۱۲۹ نبیوں کا سردار اسلام میں مردہ لاش کا احترام دشمن جو خندق پر حملہ کر رہا تھا بعض وقت وہ اُس کے پھاند نے میں کامیاب بھی ہو جاتا تھا، چنانچہ ایک دن کفار کے بعض بڑے بڑے جرنیل خندق پھاند کر دوسری طرف آنے میں کامیاب ہو گئے۔لیکن مسلمانوں نے ایسا جان تو حملہ کیا کہ سوائے واپس جانے کے اُن کے لئے کوئی چارہ نہ رہا۔چنانچہ اس وقت خندق پھاندتے ہوئے کفار کا ایک بہت بڑا رئیس نوفل نامی مارا گیا۔یہ اتنا بڑا رئیس تھا کہ کفار نے یہ خیال کیا کہ اگر اس کی لاش کی ہتک ہوئی تو عرب میں ہمارے لئے منہ دکھانے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر آپ اس کی لاش واپس کر دیں تو وہ دس ہزار درہم آپ کو دینے کے لئے تیار ہیں۔اُن لوگوں کا تو خیال یہ تھا کہ شاید جس طرح ہم نے مسلمان رؤساء بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ناک اور کان اُحد کی جنگ میں کاٹ دیئے تھے اسی طرح شاید آج مسلمان ہمارے اس رئیس کے ناک، کان کاٹ کر ہماری قوم کی بے عزتی کریں گے۔مگر اسلام کے احکام تو بالکل اور قسم کے ہیں۔اسلام لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔چنانچہ کفار کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا۔اس لاش کو ہم نے کیا کرنا ہے یہ لاش ہمارے کس کام کی ہے کہ اس کے بدلہ ہم تم سے کوئی قیمت لیں۔اپنی لاش بڑے شوق سے اُٹھا کر لے جاؤ۔ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں لے اتحادی فوجوں کے مسلمانوں پر حملے اُن دنوں جس جوش کے ساتھ کفار حملہ کرتے تھے میور اُس کا اِن الفاظ میں ذکر السيرة الحلبية جلد ٢ صفحه ۳۳۶۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء