نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 123

۱۲۳ نبیوں کا سردار اور اس طرح مسلمانوں کی مقابلہ کی طاقت بالکل کچلی جائے گی اور ایک ہی دم میں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے سب ماردیے جائیں گے۔یہ یقینی بات ہے کہ اگر اس تدبیر میں تھوڑی بہت کامیابی بھی کفار کو ہو جاتی تو مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ حفاظت کی باقی نہیں رہتی تھی۔بنو قریظہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور اگر وہ کھلی جنگ میں شامل نہ بھی ہوتے تب بھی مسلمان یہ امید کرتے تھے کہ اُن کی طرف سے ہو کر مدینہ پر کوئی حملہ نہیں کر سکے گا۔اسی وجہ سے اُن کی طرف کا حصہ بالکل غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا۔بنو قریظہ اور کفار نے بھی اس صورت حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ جب بنو قریظہ کفار کے ساتھ مل گئے تو وہ کھلے بندوں کفار کی مدد نہ کریں تا ایسا نہ ہو کہ مسلمان مدینہ کی اُس طرف کی حفاظت کا بھی کوئی سامان کر لیں جو بنو قویظہ کے علاقہ کے ساتھ ملتی تھی۔یہ تدبیر نہایت ہی خطرناک تھی۔مسلمانوں کو غافل رکھتے ہوئے کسی ایسے وقت میں بنوقریظہ کا دشمن کے ساتھ جاملنا جبکہ اسلامی فوج پر کفار کی فوج کا زبردست دھاوا ہورہا ہو مدینہ کی اس طرف کی حفاظت کو جس طرف بنوقریظہ کے قلعے واقعہ تھے بالکل ناممکن بنادیتا تھا۔دوطرف سے مسلمانوں پر حملہ کر سکنے کا امکان پیدا ہو جانے کے بعد مکہ کے لشکر نے خندق پر حملہ شروع کیا۔پہلے چند دن تو اُن کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ خندق سے کس طرح گزریں، لیکن دو چار دن کے بعد اُنہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ تیرانداز اونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر اُن مسلمان دستوں پر تیر اندازی شروع کر دیتے تھے جو خندق کی حفاظت کے لئے خندق کے ساتھ ساتھ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر بٹھائے گئے تھے۔جب تیروں کی بوچھاڑ کی وجہ سے مسلمان پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتے تو اعلیٰ درجہ کے گھوڑ سوار خندق کو پھاند نے کی کوشش کرتے۔خیال کیا گیا تھا کہ اس قسم کے متواتر حملوں کے نتیجہ میں کوئی نہ کوئی جگہ ایسی نکل آئے گی کہ جہاں سے پیدل فوج زیادہ تعداد میں خندق پار ہو سکے گی۔یہ حملے اتنی کثرت کے ساتھ کئے جاتے