نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 122

۱۲۲ نبیوں کا سردار ایک بالکل نئی بات تھی اور اس قسم کی لڑائی کے لئے وہ تیار نہ تھے انہوں نے خندق کے سامنے اپنے خیمے لگا دیئے اور مدینہ میں داخل ہونے کی تدبیریں سوچنے لگے۔بنو قریظہ کی غداری چونکہ مدینہ کا ایک کافی حصہ خندق سے محفوظ تھا اور دوسری طرف کچھ پہاڑی ٹیلے، کچھ پختہ مکانات اور کچھ باغات وغیرہ تھے، اس لئے فوج یکدم حملہ نہیں کر سکتی تھی۔پس اُنہوں نے مشورہ کر کے یہ تجویز کی کہ کسی طرح یہود کا تیسرا قبیلہ جو ابھی مدینہ میں باقی تھا اور جس کا نام بنوقریظہ تھا اپنے ساتھ ملالیا جائے اور اس ذریعہ سے مدینہ تک پہنچنے کا راستہ کھولا جائے۔چنانچہ مشورہ کے بعد کی ابن اخطب جو جلا وطن کردہ بنونضیر کا سردار تھا اور جس کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے سارا عرب اکٹھا ہوکر مدینہ پر حملہ آور ہوا تھا اُسے کفار کی فوج کے کمانڈر ابوسفیان نے اس بات پر مقرر کیا کہ جس طرح بھی ہو بنوقریظہ کو اپنے ساتھ شامل کرو، چنانچہ حی ابن اخطب یہودیوں کے قلعوں کی طرف گیا اور اُس نے بنو قریظہ کے سرداروں سے ملنا چاہا۔پہلے تو انہوں نے ملنے سے انکار کیا لیکن جب اُس نے اُن کو سمجھایا کہ اس وقت سارا عرب مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے آیا ہے اور یہ بستی سارے عرب کا مقابلہ کسی صورت میں نہیں کر سکتی اس وقت جولشکر مسلمانوں کے مقابل پر کھڑا ہے اُس کو شکر نہیں کہنا چاہئے بلکہ ایک ٹھاٹھیں مارنے والا سمندر کہنا چاہئے تو ان باتوں سے اُس نے بنوقریظہ کو آخر غداری اور معاہدہ شکنی پر آمادہ کر دیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ کفار کا لشکر سامنے کی طرف سے خندق پار ہونے کی کوشش کرے اور جب وہ خندق پار ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے تو بنو قریظہ مدینہ کی دوسری طرف سے مدینہ کے اُس حصہ پر حملہ کر دیں گے جہاں عورتیں اور بچے ہیں جو بنو قریظہ پر اعتبار کر کے بغیر حفاظت کے چھوڑ دیئے گئے تھے