نبیوں کا سردار ﷺ — Page 117
112 نبیوں کا سردار اُس میں صرف جوان اور مضبوط آدمی ہوتے ہیں۔پس یہ بات یقینی ہے کہ کفار کے لشکر میں بیس ہزار یا پچیس ہزار جتنے بھی آدمی تھے وہ سب کے سب مضبوط، جوان اور تجربہ کا رسپاہی تھے۔لیکن مدینہ کے کل مردوں کی تعداد بچوں اور اپاہجوں کو ملا کر بمشکل تین ہزار ہوتی تھی۔ظاہر ہے کہ ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مدینہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سمجھی جائے تو دشمن کی تعداد چالیس ہزار مجھنی چاہئے اور اگر دشمن کے لشکر کی تعداد میں ہزار سمجھی جائے تو مدینہ کے سپاہیوں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار فرض کرنی چاہئے۔جب اس لشکر کے جمع ہونے اور حملہ کی تیاریوں کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ اس موقع پر کیا کرنا چاہئے۔صحابہ میں سلمان فارسی سے جو سب سے پہلے فارسی مسلمان تھے دریافت فرمایا کہ تمہارے ملک میں ایسے موقع پر کیا کیا کرتے ہیں؟ تو اُنہوں نے کہا یا رسول اللہ ! جب شہر بے حفاظت ہو اور سپاہی تھوڑے ہوں تو ہمارے ملک کے لوگ خندق کھود کر اُس کے اندر محصور ہو جایا کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی یہ تجویز پسند فرمائی۔مدینہ کے ایک طرف ٹیلے تھے دوسری طرف ایسے محلے تھے جن کے مکانات ایک دوسرے سے پیوستہ تھے اور دشمن صرف چند گلیوں میں سے ہو کر آسکتا تھا۔تیسری طرف کچھ مکانات تھے اور کچھ باغات اور کچھ فاصلہ پر یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے قلعے تھے۔یہ قبیلہ چونکہ مسلمانوں سے اتحاد کا معاہدہ کر چکا تھا اس لیے یہ سمت بھی محفوظ سمجھ لی گئی تھی۔چوتھی طرف کھلا میدان تھا اور اس طرف سے زیادہ خطرہ ہوسکتا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اس کھلے میدان کی طرف خندق بنا دی جائے تا کہ دشمن اچانک شہر میں داخل نہ ہو سکے۔چنانچہ آپ نے دس دس گز کا حصہ کھولنے کیلئے دس دس آدمیوں کے سپر د کر دیا اور اس طرح قریباً ایک میل لمبی خندق کھدوائی۔جب خندق کھودی جا رہی تھی تو زمین میں سے ایک ایسا پتھر نکلا جو کسی طرح لوگوں سے ٹوٹتا نہیں تھا۔صحابہ نے