نبیوں کا سردار ﷺ — Page 118
۱۱۸ نبیوں کا سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی تو آپ وہاں خود تشریف لے گئے۔اپنے ہاتھ میں کدال پکڑا اور زور سے اُس پتھر پر مارا۔کدال کے پڑنے سے اس پتھر میں سے روشنی نکلی اور آپ نے فرمایا۔اللہ اکبر۔پھر دوبارہ آپ نے کدال مارا تو پھر روشنی نکلی پھر آپ نے فرمایا۔اللہ اکبر۔پھر آپ نے تیسری دفعہ کدال مارا اور پھر پتھر سے روشنی نکلی اور ساتھ ہی پتھر ٹوٹ گیا۔اس موقع پر پھر آپ نے فرمایا۔اللہ اکبر۔صحابہ نے آپ سے پوچھا۔يَا رَسُولَ اللہ ! آپ نے تین دفعہ اللہ اکبر کیوں فرمایا ؟ آپ نے فرما یا پتھر پر کدال پڑنے سے تین دفعہ جو روشنی نکلی تو تینوں دفعہ خدا نے مجھے اسلام کی آئندہ ترقیات کا نقشہ دکھایا۔پہلی دفعہ کی روشنی میں مملکت قیصر کے شام کے محلات دکھائے گئے اور اُس کی کنجیاں مجھے دی گئیں، دوسری دفعہ کی روشنی میں مدائن کے سفید محلات مجھے دکھائے گئے اور مملکت فارس کی کنجیاں مجھے دی گئیں، تیسری دفعہ کی روشنی میں صنعاء کے دروازے مجھے دکھائے گئے اور مملکت یمن کی کنجیاں مجھے دی گئیں لے پس تم خدا کے وعدوں پر یقین رکھو دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔یہ تھوڑے سے آدمی اتنی لمبی خندق فوجی اصول کے مطابق تو نہیں کھود سکتے تھے۔پس یہ خندق اتناہی فائدہ دے سکتی تھی کہ دشمن اچا نک اندر نہ گھس آئے ورنہ اس خندق سے پار ہونا دشمن کیلئے ناممکن نہیں تھا۔چنانچہ آئندہ جو واقعات بیان ہوں گے اُن سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ دشمن نے بھی مدینہ کے حالات کو مدنظر رکھ کر اسی طرف سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔چنانچہ دشمن کا لشکر جرار اسی طرف سے مدینہ میں داخل ہونے کیلئے آگے بڑھا۔رسول کریم ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے بھی کچھ لوگوں کو شہر کے دوسرے حصوں کی حفاظت کیلئے مقرر کر دیا اور بقیہ آدمیوں کو ساتھ لے کر جو بارہ سو کے قریب ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۳۳۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء