نبیوں کا سردار ﷺ — Page 116
117 نبیوں کا سردار یہاں جا کر بنو نضیر نے مسلمانوں کے خلاف عربوں میں جوش پھیلا نا شروع کیا۔مکہ والے تو پہلے ہی مخالف تھے، کسی مزید انگیخت کے محتاج نہ تھے۔اسی طرح غطفان نامی مجد کا قبیلہ جو عرب کے قبیلوں میں بہت بڑی حیثیت رکھتا تھا وہ بھی مکہ والوں کی دوستی میں اسلام کی دشمنی پر آمادہ رہتا تھا۔اب یہود نے قریش اور غطفان کو جوش دلانے کے علاوہ بنو سلیم اور بنواسد دو اور زبردست قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسانا شروع کیا اور اسی طرح بنوسعد نامی قبیلہ جو یہود کا حلیف تھا اُس کو بھی کفار مکہ کا ساتھ دینے کے لئے تیار کیا۔ایک لمبی تیاری کے بعد عرب کے تمام زبر دست قبائل کے ایک اتحاد عام کی بنیادرکھ دی گئی جس میں مکہ کے لوگ بھی شامل تھے۔مکہ کے ارد گرد کے قبائل بھی تھے اور نجد اور مدینہ سے شمال کی طرف کے علاقوں کے قبائل بھی شامل تھے اور یہود بھی شامل تھے۔ان سب قبائل نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے ایک زبر دست لشکر تیار کیا۔یہ ماہ شوال ۵ ہجری آخر فروری و مارچ ۶۲۷ء کا واقعہ ہے۔یہ مختلف مؤرخوں نے اس لشکر کا اندازہ دس ہزار سے چوبیس ہزار تک لگایا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ تمام عرب کے اجتماع کا نتیجہ صرف دس ہزار سپاہی نہیں ہوسکتا یقینا چوبیس ہزار والا اندازہ زیادہ صحیح ہے اور اگر اور کچھ نہیں تو یہ لشکر اٹھارہ بیس ہزار کا تو ضرور ہوگا۔مدینہ ایک معمولی قصبہ تھا اس قصبہ کے خلاف سارے عرب کی چڑھائی کوئی معمولی نہیں تھی۔مدینہ کے مرد جمع کر کے (جن میں بوڑھے، جوان اور بچے بھی شامل ہوں ) صرف تین ہزار آدمی نکل سکتے تھے اس کے برخلاف دشمن کی فوج ہیں اور چوبیس ہزار کے درمیان تھی اور پھر وہ سب کے سب فوجی آدمی تھے۔جوان اور لڑنے کے قابل تھے۔کیونکہ جب شہر میں رہ کر حفاظت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔مگر جب دُور دراز مقام پر لشکر چڑھائی کر کے جاتا ہے تو ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۳۳۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء