نبیوں کا سردار ﷺ — Page 6
۶ نبیوں کا سردار کے پانچ وقتوں میں شراب کی مجلسیں لگانا ضروری تھا۔جو ا اُن کی قومی کھیل تھی مگر اُس کو انہوں نے ایک فن بنالیا تھا۔وہ بجوا اس لئے نہیں کھیلتے تھے کہ اپنے اموال بڑھائیں بلکہ جوئے کو انہوں نے سخاوت اور بڑائی کا ذریعہ بنایا ہوا تھا۔مثلاً جوا کھیلنے والوں میں یہ معاہدہ ہوتا تھا کہ جو جیتے وہ جیتے ہوئے مال سے اپنے دوستوں اور اپنی قوم کی دعوتیں کرے۔جنگوں کے موقع پر جوئے کو ہی روپیہ جمع کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔جنگ کے ایام میں آجکل بھی لاٹری کا رواج بڑھ رہا ہے مگر یورپ اور امریکہ کے لاٹری بازوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس ایجاد کا سہرا عربوں کے سر ہے۔جب کبھی جنگ ہوتی تھی تو عرب قبائل آپس میں بجوا کھیلتے تھے اور جو جیتا تھاوہ جنگ کے اکثر اخراجات اُٹھاتا تھا۔غرض دنیا کی دوسری آسائشوں اور سہولتوں سے محروم ہونے کا بدلہ عربوں نے شراب اور جوئے سے لیا تھا۔تجارت عرب لوگ تاجر تھے اور اُن کے تجارت کے قافلے دور دور تک جاتے تھے۔ایسے سینیا سے بھی وہ تجارت کرتے تھے اور شام اور فلسطین سے بھی وہ تجارت کرتے تھے ہندوستان سے بھی ان کے تجارتی تعلقات تھے۔ان کے امراء ہندوستان کی بنی ہوئی تلواروں کی خاص قدر کرتے تھے۔کپڑا زیادہ تر یمن اور شام سے آتا تھا۔یہ تجارتیں عرب کےشہروں کے ہاتھ میں تھیں بقیہ عرب سوائے یمن اور بعض شمالی علاقوں کے بدوی زندگی بسر کرتے تھے۔نہ اُن کے کوئی شہر تھے نہ اُن کی کوئی بستیاں تھیں۔صرف قبائل نے ملک کے علاقے تقسیم کر لیے تھے۔ان علاقوں میں وہ چکر کھاتے پھرتے تھے۔جہاں کا پانی ختم ہو جاتا تھا وہاں سے چل پڑتے تھے اور جہاں پانی مل جاتا تھا وہاں ڈیرے ڈال دیتے تھے۔بھیڑ، بکریاں، اُونٹ اُن کی پونچی ہوتے تھے اُن کی صوف اور اُون سے کپڑے