نبیوں کا سردار ﷺ — Page 112
۱۱۲ نبیوں کا سردار نے ایک شخص سے پوچھا۔جب مسلمان کو موت کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ایسی باتیں کیوں کرتا ہے؟ اُس شخص نے جواب دیا کہ مسلمان اللہ کی راہ میں موت کو نعمت اور فتح سمجھتا ہے۔جبار پر اس جواب کا ایسا اثر ہوا کہ اُس نے اسلام کا با قاعدہ مطالعہ شروع کر دیا اور بالآخر مسلمان ہو گیا ان دو اندوہناک واقعات کی خبر جس میں قریباً ۸۰ مسلمان ایک شرارت آمیز سازش کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے فور آمدینہ پہنچ گئی۔مقتولین کوئی معمولی آدمی نہ تھے بلکہ حفاظ قرآن تھے۔وہ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے، نہ انہوں نے کسی کو دُکھ دیا تھا۔وہ کسی جنگ میں بھی شریک نہیں تھے بلکہ اللہ اور مذہب کا جھوٹا واسطہ دیکر وہ دھو کے سے دشمن کے تصرف میں دے دیئے گئے تھے۔ان واقعات سے بلا شک وشبہ ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو اسلام سے سخت دشمنی تھی۔اس کے بالمقابل اسلام کے حق میں مسلمانوں کا جوش بھی نہایت گہرا اور پائدار تھا۔غزوہ بنی مصطلق جنگ اُحد کے بعد مکہ میں سخت قحط پڑا۔مکہ والوں کو جو دشمنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اور جو تدابیر وہ آپ کے برخلاف لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی ملک بھر میں کر رہے تھے ، بالکل نظر انداز کر کے آنحضرت ﷺ نے اس سخت مصیبت کے وقت میں مکہ کے غرباء کی امداد کے لئے ایک رقم جمع کی ،مگر اس خیر خواہی کا بھی اہلِ مکہ پر کچھ اثر نہ ہوا اور اُن کی دشمنی میں کوئی فرق نہ آیا بلکہ وہ دشمنی میں اور بھی بڑھ گئے۔ایسے قبائل بھی جو پہلے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کرتے تھے دشمن بن گئے۔ان قبائل میں سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۱۹۶۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء