نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 111

نبیوں کا سردار قسم ! میں اپنی مراد کو پہنچ گیا ہے اس دھوکا بازی سے حرام کے قتل کرنے کے بعد قبیلہ کے سرداروں نے اہلِ قبیلہ کو جوش دلایا کہ باقی جماعت معلمین پر بھی حملہ کریں۔مگر قبیلہ والوں نے کہا کہ ہمارے رئیس ابو براء نے ضامن بننا منظور کیا ہے ہم اس جماعت پر حملہ نہیں کر سکتے۔اس پر قبیلہ کے سرداروں نے اُن دو قبیلوں کی مدد کے ساتھ جو مسلمان معلمین کو لانے کے لئے گئے تھے، جماعتِ معلمین پر حملہ کر دیا۔اُن کا یہ کہنا کہ ہم وعظ کرنے اور اسلام سکھانے آئے ہیں لڑنے نہیں آئے بالکل کارگر نہ ہوا اور کفار نے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔آخرتین آدمیوں کے سوا باقی سب شہید ہو گئے۔اس جماعت میں سے ایک آدمی لنگڑا تھا اور لڑائی ہونے سے پہلے پہاڑی پر چڑھ گیا تھا اور دو اونٹ چرانے جنگل کو گئے ہوئے تھے۔واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ اُن کے چھیاسٹھ ساتھی میدان میں مرے پڑے ہیں۔دونوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ایک نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس حادثہ کی اطلاع دیں۔دوسرے نے کہا جہاں ہماری جماعت کا سردار جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقررکیا تھا قتل کیا گیا ہے میں اُس جگہ کو چھوڑ نہیں سکتا۔یہ کہتے ہوئے وہ تن تنہا کفار پر حملہ آور ہوا اور لڑتا ہوا مارا گیا۔دوسرے کوگرفتار کر لیا گیا مگر بعد میں ایک قسم کی بناء پر جو قبیلہ کے ایک سردار نے کھائی تھی وہ چھوڑ دیا گیا۔قتل ہونے والوں میں عامر بن فہیرہ بھی تھے جو حضرت ابوبکر کے آزاد کردہ غلام تھے۔اُن کا قاتل ایک شخص جبار بن سلمی تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا۔جبار کہا کرتا تھا کہ عامر کا قتل ہی میرے مسلمان ہونے کا موجب ہوا تھا۔جبار کہتا ہے کہ جب میں عامر کو قتل کرنے لگا تو میں نے عامر کو یہ کہتے سنا فُزت واللہ خدا کی قسم ! میں نے اپنی مراد کو پالیا۔اس کے بعد میں سيرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۱۹۳ تا ۱۹۶ + بخاری کتاب الجهاد باب من ينكب او يطنن فی سبیل اللہ