نبیوں کا سردار ﷺ — Page 101
1+1 نبیوں کا سردار بہت تیز ہوتے ہیں اور وہ بسا اوقات مُردوں کو زندہ سمجھ کر کلام کرتی ہے۔جیسے بعض عورتوں کے خاوند یا بیٹے مر جاتے ہیں تو اُن کی موت پر اُن سے مخاطب ہو کر وہ اس قسم کی باتیں کرتی رہتی ہیں کہ مجھے کس پر چھوڑ چلے ہو؟ یا بیٹا! اس بڑھاپے میں مجھ سے کیوں منہ موڑ لیا؟ یہ شدت غم میں فطرت انسانی کا ایک نہایت لطیف مظاہرہ ہوتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر اُس عورت کا حال ہوا۔وہ آپ کو فوت شدہ ماننے کے لئے تیار نہ تھی اور دوسری طرف اس خبر کی تردید بھی نہیں کر سکتی تھی۔اس لئے شدت غم میں یہ کہتی جاتی تھی ارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کیا۔یعنی ایسا وفادار انسان ہم کو یہ صدمہ پہنچانے پر کیونکر راضی ہو گیا۔جب لوگوں نے دیکھا کہ اُسے اپنے باپ، بھائی اور خاوند کی کوئی پرواہ نہیں تو وہ اس کے سچے جذبات کو سمجھ گئے اور اُنہوں نے کہا۔فلانے کی اماں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو جس طرح تو چاہتی ہے خدا کے فضل سے خیریت سے ہیں۔اس پر اُس نے کہا مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا۔آگے چلی جاؤ وہ آگے کھڑے ہیں۔وہ عورت دوڑ کر آپ تک پہنچی اور آپ کے دامن کو پکڑ کر بولی یا رَسُول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب آپ سلامت ہیں تو کوئی مرے مجھے کوئی پرواہ نہیں لے مردوں نے جنگ میں وہ نمونہ ایمان کا دکھایا اور عورتوں نے یہ نمونہ اخلاص کا دکھایا، جس کی مثال میں نے ابھی بیان کی ہے۔عیسائی دنیا مریم مگر لینی اور اس کی ساتھی عورتوں کی اس بہادری پر خوش ہے کہ وہ مسیح کی قبر پر صبح کے وقت دشمنوں سے چھپ کر پہنچی تھیں۔میں اُن سے کہتا ہوں آؤ اور ذرا میرے محبوب کے مخلصوں اور فدائیوں کو دیکھو کہ کن حالتوں میں اُنہوں نے اُس کا ساتھ دیا اور کن حالتوں میں اُنہوں نے توحید کے جھنڈے کو بلند کیا۔ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۲۶۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء