نبیوں کا سردار ﷺ — Page 100
نبیوں کا سردار کان کاٹے گئے ہیں اُن میں خود آپ کے چا حمزہ بھی تھے۔آپ کو یہ نظارہ دیکھ کر افسوس ہوا اور آپ نے فرما یا کفار نے خود اپنے عمل سے اپنے لئے اُس بدلہ کو جائز بنا دیا ہے جس کو ہم ناجائز سمجھتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ کفار جو کچھ کرتے ہیں اُن کو کرنے دو تم رحم اور انصاف کا دامن ہمیشہ تھامے رکھو لے جنگ اُحد سے واپسی اور اہل مدینہ کے جذبات فدائیت جب اسلامی لشکر واپس مدینہ کی طرف لوٹا تو اُس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت اور اسلامی لشکر کی پراگندگی کی خبر مدینہ پہنچ چکی تھی۔مدینہ کی عورتیں اور بچے دیوانہ وار اُحد کی طرف دوڑے جا رہے تھے۔اکثر کو تو راستہ میں خبر مل گئی اور وہ رُک گئے ،مگر بنود دینار قبیلہ کی ایک عورت دیوانہ وار آگے بڑھتے ہوئے اُحد تک جا پہنچی۔جب وہ دیوانہ وار اُحد کے میدان کی طرف جارہی تھی اُس عورت کا خاوند اور بھائی اور باپ اُحد میں مارے گئے تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔جب اُسے اُس کے باپ کے مارے جانے کی خبر دی گئی تو اُس نے کہا مجھے بتاؤ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ چونکہ خبر دینے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھے وہ باری باری اُسے اس کے بھائی اور خاوند اور بیٹے کی موت کی خبر دیتے چلے گئے مگر وہ یہی کہتی چلی جاتی تھی مَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم “۔ارے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ بظاہر یہ فقرہ غلط معلوم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اُس کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ غلط نہیں بلکہ عورتوں کے محاورہ کے مطابق بالکل درست ہے۔عورت کے جذبات سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحہ ۱۹۶۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء