نبیوں کا سردار ﷺ — Page 99
۹۹ نبیوں کا سردار کہا میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی ساتھی مجھے مل جائے۔انہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت تو خطر ناک معلوم ہوتی ہے کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ دار کو دینا چاہتے ہیں؟ اُس مرنے والے صحابی نے کہا ہاں ! ہاں! میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور انہیں کہنا کہ میں تو مر رہا ہوں مگر اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تم میں چھوڑے جا رہا ہوں۔اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! وہ خدا کا سچا رسول ہے میں اُمید کرتا ہوں کہ تم اس کی حفاظت میں اپنی جانیں دینے سے دریغ نہیں کرو گے اور میری اس وصیت کو یا درکھو گے لیے مرنے والے انسان کے دل میں ہزاروں پیغام اپنے رشتہ داروں کو پہنچانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اتنے بے نفس ہو چکے تھے کہ نہ انہیں اپنے بیٹے یاد تھے، نہ بیویاں یاد تھیں، نہ مال یا دتھا، نہ جائدادیں یاد تھیں انہیں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجو دہی یادر ہتا تھا۔وہ جانتے تھے کہ دنیا کی نجات اس شخص کے ساتھ ہے۔ہمارے مرنے کے بعد اگر ساری اولادیں زندہ رہیں تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کرسکتیں، لیکن اگر اس نجات دہندہ کی حفاظت میں انہوں نے اپنی جانیں دے دیں تو گو ہمارے اپنے خاندان مٹ جائیں گے مگر دنیا زندہ ہو جائے گی۔شیطان کے پنجہ میں پھنسا ہوا انسان پھر نجات پا جائے گا اور ہمارے خاندانوں کی زندگی سے ہزاروں گنے زیادہ قیمتی بنو آدم کی زندگی اور نجات ہے۔بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمیوں اور شہداء کو جمع کیا ، زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی اور شہداء کے دفنانے کا انتظام کیا گیا۔اُس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ ظالم کفار مکہ نے بعض مسلمان شہداء کے ناک کان بھی کاٹ دیئے ہیں۔چنانچہ یہ لوگ جن کے ناک ے سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۱۰۱،۱۰۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء