نبیوں کا سردار ﷺ — Page 312
۳۱۲ نبیوں کا سردار کوئی گھڑی نہیں آئے گی۔اسی سلسلہ میں یہ واقعہ بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ آپ ہمیشہ وبائی بیماریوں میں ایک شہر سے دوسرے شہر کو بھاگ جانا نا پسند فرماتے تھے کیونکہ اس طرح ایک علاقہ کی بیماری دوسرے علاقہ میں پھیل جاتی ہے۔آپ فرما یا کرتے تھے کہ اگر ایسی بیماری کے علاقہ میں کوئی شخص صبر سے بیٹھا رہے اور دوسرے علاقوں میں وبا پھیلانے کا موجب نہ بنے تو اگر اُسے موت آئے گی تو وہ شہید ہوگا۔تعاون با همی آپ ہمیشہ اپنے صحابہؓ کو اس بات کی نصیحت فرماتے تھے کہ آپس میں تعاون کے ساتھ کام کیا کرو۔چنانچہ اپنی جماعت کے لوگوں کے لئے آپ نے یہ اُصول مقرر کر دیا تھا کہ اگر کسی شخص سے کوئی ایسا جرم سرزد ہو جائے جس کے بدلہ میں اُسے کوئی رقم ادا کرنی پڑے اور وہ اُس کی طاقت سے باہر ہو تو اُس کے محلہ والے یا شہر والے یا قوم والے مل کر اُس کا بدلہ ادا کریں۔بعض لوگ جو دین کی خدمت کے لئے آپ کے پاس آیا جایا کرتے تھے ، آپ اُن کے رشتہ داروں کو نصیحت کرتے تھے کہ اُن کا بوجھ برداشت کریں اور اُن کی ضروریات کا خیال رکھیں۔حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو بھائی مسلمان ہوئے ایک بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگا اور دوسرا اپنے کام کاج میں مشغول رہا۔کام کرنے والے بھائی نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی شکایت کی کہ یہ نکما بیٹھارہتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا۔بخاری کتاب الطب باب اجر الصابر في الطاعون