نبیوں کا سردار ﷺ — Page 305
۳۰۵ نبیوں کا سردار اصول ہی یہی ہے کہ جس سے پیار ہو اور جس کا ادب ہو اُس کے قریبیوں اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھی محبت اور پیار پیدا ہو جاتا ہے۔انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ سفر پر تھا جریر بن عبد اللہ ایک دوسرے صحابی بھی اس سفر میں ساتھ تھے وہ سفر میں نوکروں کی طرح میرے کام کیا کرتے تھے۔جریر بڑے تھے اور ان کا ادب حضرت انس اپنے لئے ضروری سمجھتے تھے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ میں انہیں منع کرتا تھا کہ ایسا نہ کریں۔میرے ایسا کہنے پر جریر جواب میں کہتے تھے میں نے انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے انتہاء خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔میں نے اُن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ محبت دیکھ کر اپنے دل سے عہد کیا تھا کہ جب کبھی مجھے کسی انصاری کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملے گا یا اس کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا تو میں اُس کی خدمت کروں گا اس لئے آپ مجھے نہ روکیں میں اپنی قسم پوری کر رہا ہوں لے اس واقعہ سے بالوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کی خدمت کرنے والا بھی انسان کا محبوب ہو جاتا ہے پس جن لوگوں کے دلوں میں اپنے ماں باپ کا سچا ادب اور احترام ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ کے علاوہ اُن کے رشتہ داروں اور دوستوں کا بھی ادب کرتے ہیں۔ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اقارب کی خدمت کا ذکر تھا تو آپ نے فرمایا بہترین نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کی دوستیوں کا بھی خیال رکھے۔یہ بات آپ نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے کہی تھی اور اس پر انہوں نے ایسا عمل کیا کہ ایک دفعہ وہ حج کے لئے جارہے تھے کہ رستہ میں ایک شخص اُن کو نظر آیا۔آپ نے اپنی سواری کا گدھا اُس کو دے دیا اور اپنے سر کا خوبصورت عمامہ بھی اُس کو عطا کر دیا۔اُن کے ساتھیوں نے انہیں کہا کہ آپ نے یہ کیا کام کیا ہے؟ یہ تو اعرابی لوگ ہیں بہت تھوڑی سی چیز ان کو دے مسلم کتاب فضائل الصحابة باب فی حسن صحبة الانصار (الخ)