نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 304

۳۰۴ نبیوں کا سردار ہو کہ خدا تم سے راضی ہو جائے۔اس نے کہا ہاں یا رسُول الله ! آپ نے فرمایا پھر بہتر یہ ہے کہ واپس جاؤ اور اپنے والدین کی خدمت کرو اور خوب خدمت کر ویلے آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کیا کرتے تھے کہ حسن سلوک میں مذہب کی کوئی شرط نہیں۔غریب رشتہ دار خواہ کسی مذہب کے ہوں اُن سے حسن سلوک کرنا نیکی ہے۔حضرت ابوبکر کی ایک بیوی مشرکہ تھیں۔حضرت ابوبکر کی بیٹی اسماء نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ يَا رَسُولَ اللہ کیا میں اُس سے حسن سلوک کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرما یا ضرور وہ تیری ماں ہے تو اُس سے حسن سلوک کر ہے رشتہ دار تو الگ رہے آپ اپنے رشتہ داروں کے رشتہ داروں اور اُن کے دوستوں تک کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔جب کبھی آپ قربانی کرتے تو آپ حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف ضرور گوشت بھجواتے اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خدیجہ کی سہیلیوں کو نہ بھولنا اُن کی طرف گوشت ضرور بھیجوانا۔سے ایک دفعہ حضرت خدیجہ کی وفات کے کئی سال بعد آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ آپ سے ملنے آئیں اور دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا ” کیا میں اندرآ سکتی ہوں؟ ہالہ کی آواز میں اُس وقت اپنی مرحومہ بہن حضرت خدیجہ سے بے انتہاء مشابہت پیدا ہوگئی۔اس آواز کے کان میں پڑتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کپکپی آگئی پھر آپ سنبھل گئے اور فر ما یا آہ میرے خدا! یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہ ہیں کے در حقیقت سچی محبت کا بخاری کتاب الادب باب لا يجاهد الا باذن الابوين ے بخاری کتاب الادب باب صلة الوالد المشرك مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل خديجه بخاری کتاب المناقب الانصار باب تزويج النبی ﷺ خديجة (الخ)