نبیوں کا سردار ﷺ — Page 284
۲۸۴ نبیوں کا سردار آئی۔انہوں نے چاہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ درخواست پیش کریں کہ اس عورت کو معاف کر دیا جائے۔اور تو کسی شخص نے جرات نہ کی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز اسامہ بن زید کو لوگوں نے چنا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کی سفارش کریں۔اسامہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات شروع ہی کی تھی کہ آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا! اسامہ! یہ کیا کہہ رہے ہو، پہلی تو میں اسی طرح تباہ ہوئیں کہ وہ بڑوں کا لحاظ کرتی تھیں اور چھوٹوں پر ظلم کرتی تھیں۔اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور میں ایسا ہر گز نہیں کر سکتا۔خدا کی قسم! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس قسم کا جرم کرتی تو میں اُسے سزا دیئے بغیر نہ رہتا ہے یہ واقعہ پہلے سوانح میں آچکا ہے کہ بدر کی جنگ میں جب حضرت عباس قید ہوئے تو ان کے کراہنے سے آپ کو تکلیف محسوس ہوئی لیکن جب صحابہ نے آپ کی تکلیف دیکھ کر حضرت عباس کے ہاتھوں کی رسیاں کھول دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہو گئی تو آپ نے فرمایا جیسے میرے رشتہ دار ویسے ہی دوسروں کے رشتہ دار۔یا تو میرے چچا عباس کو بھی پھر رسیوں سے باندھ دو یا سارے قیدیوں کی رسیاں کھول دو۔صحابہ کو چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا احساس تھا اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہم پہرہ تختی سے دے لیں گے لیکن سب قیدیوں کی رسیاں ہم کھول دیتے ہیں، چنانچہ سب قیدیوں کی رسیاں اُنہوں نے کھول دیں۔آپ انصاف کا خیال جنگ کے موقع پر بھی رکھتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے کچھ صحابہ کو باہر خبر رسانی کے لئے بھجوایا۔دشمن کے کچھ آدمی اُن کو حرم کی حد میں مل گئے صحابہ ل مسلم کتاب الحدود باب قطع السارق الشريف (الخ) بخاری کتاب الحدود باب اقامة الحدود والانتقام الحرمات الله