نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 283

۲۸۳ نبیوں کا سردار ایک دفعہ جنگ ہو رہی تھی غضب کا معرکہ پڑ رہا تھا، نیزے پھینکے جا رہے تھے، تلواریں کھٹا کھٹ گر رہی تھیں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔سپاہی پر سپاہی ٹوٹا پڑ رہا تھا کہ اُس صحابی کے ہاتھ سے عین اُس وقت جبکہ وہ دشمن کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے کوڑا گر گیا۔ایک ہمراہی پیدل سپاہی نے اس خیال سے کہ اگر افسر نیچے اترا تو ایسا نہ ہو کہ کوئی نقصان پہنچ جائے جھک کر کوڑا اُٹھانا چاہا تا کہ اُن کے ہاتھ میں دیدے۔اس صحابی کی نظر اس سپاہی پر پڑ گئی اور انہوں نے کہا اے میرے بھائی! تجھے خدا ہی کی قسم تو کوڑے کو ہاتھ نہ لگا یہ کہتے ہوئے وہ گھوڑے سے کود پڑے اور کوڑا اٹھا لیا پھر اپنے ساتھی سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا تھا کہ میں کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا اگر میں کوڑ تمہیں اُٹھانے دیتا تو گو میں نے اس کے متعلق تم سے سوال نہیں کیا تھا لیکن اس میں کیا شبہ تھا کہ زبانِ حال سے یہ سوال ہی بن جاتا اور ایسا کرنا مجھے وعدہ خلاف بنا دیتا گو یہ جنگ کا میدان ہے مگر میں اپنا کام خود ہی کروں گا لے انصاف انصاف اور عدل آپ کے اندر اتنا پایا جاتا تھا کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔عربوں میں لحاظ داری اور سفارشوں کا قبول کرنا ایک عام مرض تھا۔عرب کا کیا ذکر ہے اس زمانہ کے متمدن ممالک میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بڑے آدمیوں کو سزا دیتے وقت جھجکتے ہیں اور غریبوں کو سزا دیتے وقت نہیں گھبراتے۔ایک دفعہ ایک مقدمہ آپ کے پاس آیا، ایک بہت بڑے خاندان کی کسی عورت نے کسی دوسرے کا مال ہتھیا لیا تھا۔جب حقیقت کھل گئی تو عربوں میں بڑا ہیجان پیدا ہو گیا کیونکہ ایک بہت بڑے معزز خاندان کی ہتک ہوتی اُنہیں نظر مسند احمد بن حنبل جلده صفحه ۲ المكتب الاسلامی بیروت ( مفهوماً)