نبیوں کا سردار ﷺ — Page 257
۲۵۷ نبیوں کا سردار مستغنی ہیں اے جب آپ کے پاس کوئی چیز آتی تو اپنے صحابہ میں بانٹ کر کھاتے۔چنانچہ آپ کے پاس ایک دفعہ کچھ کھجوریں آئیں آپ نے صحابہ کا اندازہ لگایا تو سات سات کھجوریں فی کس آتی تھیں۔اس پر آپ نے سات سات کھجور میں صحابہ میں بانٹ دیں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔سے ایک دفعہ آپ رستہ میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک بکری بھون کر لوگوں نے رکھی ہوئی ہے اور دعوت منا رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آن لوگوں نے آپ کو بھی دعوت دی مگر آپ نے انکار کر دیا ہے اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ آپ بھونا ہوا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کو اس قسم کا تکلف پسند نہیں تھا کہ پاس ہی غرباء تو بھوکے پھر رہے ہوں اور اُن کی آنکھوں کے سامنے لوگ بکرے بھون بھون کر کھا رہے ہوں۔ورنہ دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آپ بھونا ہوا گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن متواتر پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور یہی حالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک رہی۔کھانے کے متعلق آپ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے کہ کوئی بغیر بلائے کسی دعوت کے موقع پر دوسرے کے گھر کھانا کھانے کے لئے نہ چلا جائے۔ایک دفعہ ایک شخص نے آپ کی دعوت کی اور یہ بھی درخواست کی کہ آپ چار آدمی اپنے ساتھ اور بھی لیتے بخاری کتاب الاطعمة باب الاكل متكئاً تا بخاری کتاب الاطعمة باب ما كان النبي ﷺ واصحابه يأكلون