نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 201

نبیوں کا سردار رواحہ کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ بھی مارے جائیں تو مسلمان اپنے میں سے کسی کو منتخب کر کے اپنا افسر بنا لیں۔اُس وقت ایک یہودی آپ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔اُس نے کہا اے ابوالقاسم ! اگر آپ سچے ہیں تو یہ تینوں آدمی ضرور مارے جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیا کرتا ہے۔پھر وہ زید کی طرف مخاطب ہوا اور کہا میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں اگر محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم خدا کے بچے نبی ہیں تو تم کبھی زندہ واپس نہیں آؤ گے۔زید نے جواب میں کہا میں واپس آؤں یا نہ آؤں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے نبی ہیں۔دوسرے دن صبح کے وقت یہ لشکر روانہ ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس کو چھوڑنے کے لئے گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کی افسری کے بغیر اتنا بڑا لشکر کسی مسلمان جرنیل کے ماتحت کسی اہم کام کیلئے نہیں گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لشکر کے ساتھ ساتھ چلتے جاتے تھے اور انہیں نصیحتیں کرتے جاتے تھے۔آخر مدینہ کے باہر اس مقام پر جا کر جہاں سے آپ مدینہ میں داخل ہوئے تھے اور جس جگہ پر عام طور پر مدینہ والے اپنے مسافروں کو رخصت کیا کرتے تھے، آپ کھڑے ہو گئے اور کہا میں تم کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ جتنے مسلمان ہیں اُن سے نیک سلوک کرنے کی تم اللہ کا نام لے کر جنگ پر جاؤ اور تمہارے اور خدا کے دشمن جو شام میں ہیں اُن سے جا کر لڑائی کرو۔جب تم شام میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو عبادت گاہوں میں بیٹھ کر خدا کا نام لیتے ہیں تم اُن سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنا اور نہ انہیں تکلیف پہنچانا اور نہ دشمن کے ملک میں کسی عورت کو مارنا اور نہ کسی بچے کو مارنا اور نہ کسی اندھے کو مارنا اور نہ کسی بڑھے کو مارنا۔نہ کوئی درخت کاٹنا نہ عمارت گرانا۔یہ نصیحت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹے اور اسلامی لشکر شام کی طرف روانہ ہوا۔یہ پہلا لشکر تھا جو اسلام کی طرف سے عیسائیت کے