نبیوں کا سردار ﷺ — Page 196
۱۹۶ نبیوں کا سردار وسلم نے طواف کے لئے جانا تھا۔چنانچہ جب وہ وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریباً دو ہزار آدمیوں سمیت طواف کعبہ کے لئے روانہ ہوئے۔جب آپ مر الظہر ان تک پہنچے جو مکہ سے ایک پڑاؤ پر ہے تو معاہدہ کے مطابق آپ نے تمام بھاری ہتھیار اور زرہیں وہاں جمع کر دیں اور خود اپنے صحابہ سمیت معاہدہ کے مطابق صرف نیام بند تلواروں کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے۔سات سالہ جلاوطنی کے بعد مہاجرین کا مکہ میں داخل ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔اُن کے دل ایک طرف ان لمبے مظالم کی یاد کر کے خون بہا رہے تھے جو مکہ میں ان پر کئے جاتے تھے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے اس فضل کو دیکھ کر کہ پھر خدا تعالیٰ نے انہیں کعبہ کے طواف کا موقع نصیب کیا ہے وہ خوش بھی ہورہے تھے۔مکہ کے لوگ مکہ سے نکل کر پہاڑ کی چوٹیوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔مسلمانوں کا دل چاہتا تھا کہ آج وہ ان پر ظاہر کر دیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں پھر مکہ میں داخل ہونے کی توفیق بخشی یا نہیں۔چنانچہ عبد اللہ بن رواحہ نے اس موقع پر جنگی گیت گانے شروع کئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا اور فرمایا۔ایسے شعر نہ پڑھو بلکہ یوں کہو کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کی مدد کی اور مؤمنوں کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر اُونچا کیا۔صرف خدا ہی ہے جس نے دشمنوں کو ان کے سامنے سے بھگا دیا۔طواف کعبہ اور سعی بین الصفاء والمر وہ سے فراغت کے بعد آپ صحابہ سمیت تین دن تک مکہ میں ٹھہرے۔حضرت عباس کی سالی میمونہ جو دیر سے بیوہ ہو چکی تھیں مکہ میں تھیں حضرت عباس نے خواہش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے شادی کر لیں اور آپ نے اسے منظور فرمالیا۔چوتھے دن مکہ والوں نے مطالبہ کیا کہ آپ حسب معاہدہ مکہ سے نکل جائیں اور آپ نے فوراً تمام صحابہ کو حکم دیا کہ فوراً مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔مکہ والوں کے احساسات کا خیال کر کے نئی بیاہی ہوئی میمونہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا