نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 163

۱۶۳ نبیوں کا سردار کفار کی طرف سے جنگ خندق کے بعد مسلمانوں پر حملے احزاب سے واپس لوٹنے کے بعد گو کفار کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں اور اُن کے حوصلے پست ہو گئے تھے لیکن اُن کا یہ احساس باقی تھا کہ ہم اکثریت میں ہیں اور مسلمان تھوڑے ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ جہاں جہاں بھی ہو گا ہم مسلمانوں کو اکا دُکا پکڑ کر مارسکیں گے اور اس طرح اپنی ذلت کا بدلہ لے سکیں گے۔چنانچہ احزاب کی شکست کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مدینہ کے اردگرد کے قبائل نے مسلمانوں پر چھاپے مارنے شروع کر دیئے۔چنانچہ فزارہ قوم کے کچھ سواروں نے مدینہ کے قریب چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے اونٹ جو وہاں چر رہے تھے اُن کے چرواہے کو قتل کیا، اُس کی بیوی کو قید کر لیا اور اونٹوں سمیت بھاگ گئے۔قیدی عورت تو کسی نہ کسی طرح بھاگ آئی لیکن اونٹوں کا ایک حصہ لے کر بھاگ جانے میں دشمن کامیاب ہو گیا۔اس کے ایک مہینہ بعد شمال کی طرف غطفان قبیلہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے اونٹوں کے گلوں کو لوٹنے کی کوشش کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ کو دس سواروں سمیت حالات کے معلوم کرنے اور گلوں کی حفاظت کرنے کے لئے بجھوایا مگر دشمن نے موقع پا کر انہیں قتل کر دیا۔محمد بن مسلمہ کو بھی وہ اپنی طرف سے قتل کر کے پھینک گئے تھے لیکن اصل میں وہ بیہوش تھے دشمن کے چلے جانے کے بعد وہ ہوش میں آئے اور مدینہ پہنچ کر ان حالات کی اطلاع دی اور بتایا کہ میرے سب ساتھی مارے گئے اور صرف میں بچا ہوں۔کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر جو رومی حکومت کی طرف بھجوایا گیا تھا اُس پر جرہم قوم نے حملہ کیا اور اُسے لوٹ لیا۔اس کے ایک مہینہ بعد بنو فزارہ نے مسلمانوں کے ایک قافلہ پر حملہ کیا اور اسے لوٹ لیا۔غالباً یہ حملہ کسی مذہبی عداوت کی وجہ