نبیوں کا سردار ﷺ — Page 162
۱۶۲ نبیوں کا سردار پہنایا اور مسلمانوں کو ان پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ نہ موسی کی تعلیم اس زمانہ میں عدل کی تعلیم کہلا سکتی ہے نہ وہ اس زمانہ میں قابل عمل ہے اور نہ مسیح کی تعلیم اس زمانہ میں قابل عمل کہلا سکتی ہے اور نہ بھی عیسائی دنیا نے اس پر عمل کیا ہے۔اسلام ہی کی تعلیم ہے جو قابل عمل ہے اور جس پر عمل کر کے دنیا میں امن قائم رکھا جا سکتا ہے۔بیشک اس زمانہ میں مسٹر گاندھی نے دنیا کے سامنے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ جنگ کے وقت بھی جنگ نہیں کرنی چاہئے۔لیکن جس تعلیم کو مسٹر گاندھی پیش کر رہے ہیں اُس پر دنیا میں کبھی عمل نہیں ہوا کہ ہم اُس کی برائی اور خوبی کا اندازہ کرسکیں۔مسٹر گاندھی کی زندگی میں ہی کانگرس کو حکومت مل گئی ہے اور کانگرسی حکومت نے فوجوں کو ہٹایا نہیں بلکہ وہ یہ تجویزیں کر رہی ہے کہ آئی۔این۔اے کے وہ افسر جو برطانوی گورنمنٹ نے ہٹا دیئے تھے اُن کو دوبارہ فوج میں ملازم رکھا جائے۔بلکہ کانگرسی حکومت کے ہندوستان میں قائم ہونے کے سات دن کے اند روزیرستان کے علاقہ میں نہتے آدمیوں پر ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے بم گرائے گئے ہیں۔خود گاندھی جی تشدد کرنے والوں کی تائید اور اُن کے چھوڑ دینے کے حق میں گورنمنٹ پر ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ گاندھی جی نہ اُن کے پیرو اس تعلیم پر عمل کر سکتے ہیں اور نہ کوئی ایسی معقول صورت دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ قوموں اور ملکوں کی جنگ میں اس تعلیم پر کس طرح کامیاب طور پر عمل کیا جاسکتا ہے۔بلکہ منہ سے اس تعلیم کا وعظ کرتے ہوئے اُس کے خلاف عمل کرنا بتاتا ہے کہ اس تعلیم پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔پس اس وقت تک دنیا کا تجربہ ہے اور عقل جس حد تک انسان کی راہنمائی کرتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی طریقہ صحیح تھا جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔اَللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ -