مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 89

مواهب الرحمن ۸۹ اردو تر جمه يحيلى وعيسى فهو أن الله أراد من الله تعالیٰ ان دونوں کی تخلیق میں ایک عظیم الشان خلقهما آية عظمى۔فإن اليهود نشان دکھانا چاہتا تھا۔کیونکہ یہود نے میانہ روی كانوا قد تركوا طريق الاقتصاد اور راستی کا طریق چھوڑ دیا تھا اور خباثت ان کے اے والسداد، و دخل الخبث اعمال ، اقوال اور اخلاق میں داخل ہو گئی تھی اور اُن أعمالهم وأقوالهم وأخلاقهم كے دل کلیتا بگڑ گئے تھے۔انہوں نے نبیوں کو کے وفسدت قلوبهم كل الفساد، تکالیف پہنچائیں اور معصوموں کو دشمنی کی وجہ سے نا وآذوا النبيين وقتلوا الأبرياء حق قتل کیا۔اور فسق و فجور اور ظلم میں بہت آگے بغير حق بالعناد و زادوا فسقا وظلما وما بالوا بَطْشَ ربّ العباد۔بڑھ گئے اور رب العباد کی گرفت کی کوئی پرواہ نہ فرأى الله أن قلوبهم اسودّت کی۔پس اللہ نے دیکھا کہ اُن کے دل سیاہ اور ان وأن طبايعهم قسَتْ ، وأن الغاسق کی طبائع سخت ہوگئی ہیں اور رات چھا گئی ہے اور قد وقب، ووجه المهجة راه تاریک ہو گئی ہے اور تصورات کچھ اس طرح قد انتقب۔وفسدت التصورات سے بگڑ گئے ہیں کہ گویا وہ ایک تاریک رات یا ایک كأنها ليل دامس، أو طريق بے نشان راستہ ہیں۔انہوں نے حدود سے تجاوز طامس وجاوزوا الحدود کیا اور معبود کو بھلا بیٹھے اور تمام حدیں پھلانگ ونسوا المعبود، وتسوّروا گئے۔اور جزا سزا کے مالک کو بھول گئے اور وہ الجدران، ونسوا الديان۔وكانوا ایسے ہو گئے کہ ان میں وہ نور باقی نہ رہا جو انہیں لغزشوں سے محفوظ رکھتا ، اور انہیں راہ حق دکھاتا اور اصلاح احوال کرتا۔وہ اس مجزوم کی طرح ہو گئے وصاروا كمجذوم انجذمت أعضاؤه، وكُرِهَ رُواؤُه۔فإذا آلتُ جس کے اعضاء جھڑ گئے ہوں اور اس کی شکل مکروہ حالتهم إلى هذه الآثار، لعنهم ہو گئی ہو۔پس جب ان کی حالت اس نوبت تک جا الله وغضب على تلك پہنچی تو اللہ نے ان پر لعنت ڈالی اور ان شریروں پر الأشرار، وأراد أن يسلب من غضبناک ہوا اور اس نے یہ ارادہ کر لیا کہ وہ ان کی ما بقى فيهم نور يُؤمنهم العِثار ويرى الحق ويُصلح الأطوار