مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 88

مواهب الرحمن ۸۸ اردو ترجمہ ٠ ثم إن كان من الواجب الأخذ بارگاہ الہی سے مردود ہوا ۔ پھر اگر بہر طور روایات بالروايات في كل حال ۔۔ ففى أى كا قبول کرنا ہی واجب ٹھہرا تو پھر اس شخص کی کیا شيء رجل يقال له حكم من الله ذى حیثیت ہے جس کو اللہ ذوالجلال کی طرف سے حکم الجلال؟ فكيف أعطيه هذا اللقب قرار دیا جائے؟ اور اُسے یہ لقب کیسے دیا جا سکتا مع أنه لا يحكم في مسألة من ہے۔ جبکہ وہ کسی بھی مسلہ کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ بلکہ المسائل، بل يقبل كل ما عند وہ ایک فتوئی مانگنے والے سائل کی طرح علماء کی العلماء كالمستفتى السائل؟ فعند ذالك لا يستقيم لقب ہر بات قبول کر لے گا ۔ ایسی صورت میں حکم کا الحكم لشأنه، بل هو تابع لقب اس کے شایانِ شان نہیں ٹھہرتا بلکہ وہ علماء کا للعلماء ومقلّد لهم في كل بيانه تابع اور اپنے ہر بیان میں ان کا مقلد ہوگا ، ہمارا ونعتقد بأن الصلاة والصوم اعتقاد ہے کہ نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج خدائے والزكوة والحج من فرائض الله بزرگ و برتر کے مقرر کردہ فرائض ہیں پس جوان الجليل، فمن تركها متعمدا فرائض کو عمداً اور اللہ کے نزدیک صحیح عذر کے بغیر غير معتذر عند الله فقد ضل سواء السبيل۔ ترک کرتا ہے تو وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔ ومن عقائدنا أن عیسی اور ہمارے عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ عیسی اور ۱۴ ويحيى قد ولدا على طريق خَرُقِ یکی دونوں خارق عادت طریق پر پیدا ہوئے العادة ، ولا استبعاد في هذه اور یہ طریق ولادت بعید از قیاس نہیں ۔ اللہ نے الولادة ۔ وقد جمع الله تلك ان دونوں قصوں کو ایک ہی سورۃ میں جمع القصتين في سورة واحدة، ليكون فرمادیا ہے تا کہ پہلا قصّہ دوسرے قصہ کے لئے القصة الأولى على القصة الأخرى كالشاهدة ۔ وابتدأ من بطور گواہ ہو۔ اُس نے قصے کی ابتدائی سے کی اور اسے ختم ابن مریم پر کیا تا کہ خرق عادت کا یہ معاملہ يحيى وختم على ابن مريم لينقل أمر خرق العادة من أصغر چھوٹے سے بڑے کی طرف منتقل ہو۔ یحییٰ اور عیسی إلى أعظم۔ وأما سر هذا الخلق فی کی اس قسم کی تخلیق میں راز یہ ہے کہ