مواہب الرحمٰن — Page 61
۴۹ مواهب الرحمن ۶۱ اردو تر جمه ومـن مـنـن الله أنه وقانی فی کل اور اللہ کے احسانوں میں سے ایک احسان یہ بھی موطن من وصمة طيش السهام ہے کہ اس نے ہر میدان میں (میرے) تیروں وإخراج الوحى والإلهام۔وأما کے خطا جانے اور ( میری) وحی و الہام کے ناقص ہونے کے عیب سے مجھے محفوظ رکھا۔اور الطبيب فلا يأمن العِثار، ولو جہاں تک طبیب کا معاملہ ہے تو وہ لغزش سے پاک شرب من العلوم البحار، سيّما نہیں۔خواہ اس نے علوم کے سمندر پیئے ہوں۔التطعيم الذي يُخشى على الناس خاص طور پر ٹیکا لگوانا جس کے زہر کے اثر من أثر سمه والتشخيص ناقص انداز ہونے کا لوگوں پر خوف رہتا ہے اور ابھی تو والعقول بمعزل عن فهمه۔(صاحب اللواء) کی تشخیص بھی ناقص ہے۔اور وربما يسمع الطبيب من ورثاء عقل اس کے سمجھنے سے قاصر ہے۔اور بسا اوقات مريضه : ويحك ما صنعت، طبیب کو اپنے مریض کے ورثاء سے یہ الفاظ سننا والنفس أضعت ؟ و ربما يخطئ پڑتے ہیں کہ تیرابُر اہو، تو نے کیا کر دیا۔اور تو نے الأطباء خطاءً عظيما، ويُهدون جان لے لی۔بسا اوقات طبیب بہت بڑی غلطی کر إلى المريض عذابا أليما، فيعبر جاتے ہیں اور مریض کو ایسی دردناک تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ وہ مریض دنیا کے سمندر سے المرضى بحر الدنيا كالسفن اس طرح پار ہو جاتا ہے جیسے سمندر کا سینہ چیر کر المواخر، ويموت الواحد منهم چلنے والی کشتیاں۔اُن میں سے ایک کے بعد دوسرا بعد الآخر فعند ذالك يفرون مرتا ہے۔تب ایسے موقعہ پر (اطباء) فرار ہو ويشدون سروجهم المحطوطة جاتے ہیں اور اپنی اتاری ہوئی زمینوں کو دوبارہ گستے ويـحـلـون أفـراسـهـم المربوطة۔اور اپنے بندھے ہوئے گھوڑوں کو کھول دیتے ہیں۔كذالك في سبيلهم ،آفات اس طرح انہیں اپنے راستے میں آفات پیش آتی وفي كل خطوة خطيّات ہیں اور ہر قدم پر ان سے خطائیں سر زد ہوتی ہیں۔