مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 40

مواهب الرحمن اردو تر جمه وكل شجر يُعرف بالثمرات کیونکہ ہر درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔کیا أ رأيت سارقا وافی باب الإمارة، تو نے کوئی ایسا چور دیکھا ہے جو کسی حاکم کے وسرق مالا بأعين النظارة، ثم ما دروازے پر آیا ہو اور اس نے سر عام چوری کی ہو أخذ بعد هذه الغارة فكيف لا اور پھر وہ اس غارت گری کے بعد پکڑا نہ گیا ہو۔يؤخذ من يغير دين الله و يقوّض پس ایسا شخص کیوں نہیں پکڑا جائے گا جو اللہ کے مبانيه، ويحرف بحسب هواه دین کو تبدیل کرتا اور اس کی بنیادوں کو منہدم کرتا معانيه ليبرأ المسلمون من ہے اور اپنی خواہش کی پیروی میں اس کے معانی الحق، ويلحقوا بمن يناويه میں رد و بدل کرتا ہے تا کہ مسلمان حق سے بیزار ہو ويطمر كالبق۔أتظن هذا الأمر جائیں اور اُس سے جاملیں جو حق سے دشمنی کرتا اور من الممكنات كلا بل هو من پتو کی طرح اچھلتا کودتا ہے۔کیا تو یہ امر ممکنات المحالات ولو كان الله لا میں سے سمجھتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ امر محال ہے۔يغضب على المفترين لضاع اگر اللہ مفتریوں پر اپنا غضب نازل نہ کرتا تو دین الدين، ولم يبق دليل على صدق ضرور ضائع ہو جاتا۔اور صادقوں کی سچائی پر کوئی الصادقين، وارتفع الأمان و اشتبه دلیل باقی نہ رہتی ، امان اٹھ جاتی اور دین کا معاملہ أمر الدين۔ولله غيرة كالبحار مشتبہ ہو جاتا۔اللہ کی غیرت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے الزاخرة ، والجبال الشامخة، سمندر اور بلند و بالا پہاڑوں کی طرح ہے جس کی اور أمواجها ملتطمة، وأفواجها موجين متلاطم ہیں اور جس کی فوجیں لشکر جرار ہیں مزدحمة، فيسل سیفه علی پس وہ (اللہ ) مفتریوں پر اپنی تلوار سونت لیتا ہے المتقولين، لئلا يتكدّر بهم عينُ تاکہ اُن کی وجہ سے مرسلوں کا چشمہ صافی جاہلوں المرسلين في أعين الجاهلین کی نگاہ میں گدلہ نہ ہو۔اور یہ سب کچھ میں نے اپنی وكل ذالك كتبتُ في الكتب، کتابوں میں تحریر کر دیا تھا لیکن دشمنوں کا جواب صرف فرة العــدارة الغضب، فأغلقت غصہ تھا۔اس پر میں نے ان پر دروازے بند کر