مواہب الرحمٰن — Page 34
مواهب الرحمن ۳۴ اردو تر جمه أو الكلب لأصحاب الرقيم وما مقروض سے ) چمٹتا ہے۔یا جیسے اصحاب کہف أظن أن يُعدم قبل سنين، وقد کے ساتھ اُن کا کتا۔اور میرا خیال نہیں کہ یہ قيل : عمر هذه الآفة إلى سبعين۔(طاعون ) کئی سال تک معدوم ہو۔یہ بھی کہا جاتا وإنها هي النار التي جاء ذكرها ہے کہ اس آفت کا عرصہ ستر سال تک ہے۔اور یہ في قول خاتم النبيين، وفی وہی آگ ہے جس کا ذکر حضرت خاتم النبین کے ر آن المجيد من ربّ ارشاد (گرامی) میں اور رب العالمین کے کلام القرآن العالمين، وإنها خرجت من قرآن مجید میں ہے۔یہ مشرق سے ظاہر ہوئی جیسا المشرق كما روى عن خير المرسلين، وستحيط بكل معمورة کہ خیرالمرسلین سے مروی ہے۔اور عنقریب یہ اس من الأرضين، وكذالك جاء فى سرزمین کی تمام آبادیوں کو گھیر لے گی۔پہلوں كتب الأولين، فانتظر حتى کے صحیفوں میں بھی ایسے ہی آیا ہے۔پس تو انتظار يأتيك اليقين فلا تسأل عن کر یہاں تک کہ تجھے یقین آجائے۔سو اس کے أمرها فإنه عسير، وغضب الرب بارے میں سوال نہ کر کہ یہ بڑی مشکل گھڑی ہے اور كبير، وفي كل طرف صراخ رب کا غضب بہت بڑا ہے اور ہر طرف چیخ و پکار وزفير، وليس هو مرض بل ہے۔وہ ( طاعون ) صرف مرض ہی نہیں بلکہ بھڑکتی سعير۔وتلك هى دابة الأرض ہوئی آگ ہے۔یہی وہ دابتہ الارض ہے جولوگوں التي تكلّم الناس فهم يجرحون کو کالے گا پس وہ زخمی ہو جائیں گے اور اس کی کاٹ واشتد تكليمها فيغتال الناس بہت سخت ہے۔پس وہ لوگوں پر اچانک حملہ آور ويقعصون بما كانوا بآيات الله لا يؤمنون، كما قال الله عزّوجل: ۲۸) وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلُ يَوْمِ الْقِيِّمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيدًا۔ہوگا اور وہ موقع پر مر جائیں گے کیونکہ وہ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے۔جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: وَاِن مِنْ قَرْيَةِ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا۔لے اور کوئی بستی نہیں مگر اسے ہم قیامت کے دن سے پہلے ہلاک کرنے والے یا اسے بہت عذاب دینے والے ہیں۔( بنی اسرائیل:۵۹)