مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 30

مواهب الرحمن ۳۰ اردو ترجمہ أعمال الفاسقين ۔ فوالله ما مضی کے اعمال نے دعوت دی ۔ پھر بخدا صرف تھوڑا إلا قليل من الزمان حتى عاث سا عرصہ ہی گزرا تھا کہ طاعون نے ان علاقوں الطاعون في هذه البلدان فعزوہ میں تباہی مچا دی ۔ انہوں نے اس طاعون کو إلى سوء أعمالي، وقالوا : إنا میری بداعمالی کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ ہم تطيرنا بك، وضحكوا علی تجھ سے بدشگونی لیتے ہیں اور انہوں نے میری أقوالي، وقالوا : إنّا من باتوں کا مذاق اڑایا۔ اور کہا کہ ہم محفوظ رہنے المحفوظين لا يمسنا هذا والے ہیں ۔ یہ آگ ہمیں نہیں چھوئے گی اور اللظى، ولا يموت أحد من ہمارے علماء میں سے کوئی بھی طاعون سے نہیں علمائنا بالطاعون، فإنا نحن مرے گا ۔ اور ( یہ کہ ) ہم ہی نیکو کار اور تقویٰ الصالحون وأهل التقى ۔ وأما شعار ہیں ۔ اور رہی تمہاری بات تو عنقریب أنت فستطعن وتموت فإنك تجھے طاعون ہوگی اور تم مر جاؤ گے کیونکہ تم كيذبان ۔ فقلت : كذبتم، بل لنا جھوٹے ہو ۔ اس پر میں نے کہا تم جھوٹ کہتے من الطاعون أمان، ولا تخوفونی ہو بلکہ ہمیں تو طاعون سے امان دی گئی ہے۔ تم من هذه النيران، فإنّ النار غلامنا مجھے ان آگوں سے مت ڈراؤ یقیناً آگ ہماری بل غلام الغلمان فما لبثوا إلا غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ اس کے تھوڑے ہی قليلا حتى زاروا المنون، ومات عرصہ بعد وہ موت کا شکار ہونے لگے اور ان کے بعض أجل علمائهم من بعض احبل علماء طاعون سے مر گئے ۔ اور میں نے الطاعون، وكنتُ أخبرت بهذا قبل موت ذالك المطعون، فإن طاعون سے اس مرنے والے کی پہلے سے ہی خبر شئت فانظر أبياتا من قصيدتی دے دی تھی ۔ اگر چاہو تو میرے قصیدہ اعجاز یہ کے الإعجازية، التي كتبناها في هذه اشعار ملاحظہ کرلو ۔ جنہیں میں نے اس صفحے کے الصفحة على الحاشية * وما حاشیہ میں لکھ دیا ہے۔ میں نے یہ قصیدہ منقول من صفحه ۵۸ و ۶۳ من كتابي الاعجاز الاحمدی۔ یہ شعر میری کتاب اعجاز احمدی کے صفحہ ۵۸ اور ۶۳ سے منقول ہیں ) إِذَا مَا غَضِبْنَا غَاضَبَ اللَّهُ صَائِلًا عَلَى مُعْتَدٍ يُؤْذِى وَ بِالسُّوءِ يَجْهَرُ جب ہم غضبناک ہوں تو خدا اس شخص پر غضب کرتا ہے جو ایذارسانی با کرتا ہے جو ایذارسانی میں حد سے بڑھ جاتا ہے اور کھلی کھلی بدی پر آمادہ ہوتا ہے