مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 20

مواهب الرحمن اردو ترجمه سللت على المدى، أليس هذا يه قصه محل اعتراض نہیں جیسا کہ تم نے مجھ پر محل الزراية كما أنت على اعتراض کیا ہے ؟ تیرے علم میں کتنی کشتیاں ہیں تتزرّى؟ أتعلم كم من سفائن جو حضرت موسی نے رعایت اسباب کی خاطر دریا جمع موسى على البحر لرعاية پر جمع کی تھیں ؟ اگر تو نے قرآن مجید میں یہ پڑھا الأسباب؟ فأخْرِجُ لنا إن كنت ہے تو ہمارے سامنے اس کا ثبوت پیش کر اور ہوا و قرأت في الكتاب، ولا تَهِمُ في ہوس کی وادی میں سرگرداں نہ گھوم۔یہ وہ بات ہے وادى الهوى۔ذالك ما علمنا جو ہم نے کتاب اللہ سے سیکھی ہے مجھے معلوم نہیں كتاب الله، فلا أعلم إلى أين که تو کدھر جا رہا ہے اور تو نے کہاں سے سیکھا تتمشى، ومن أين تتلقى ما نَجِدُ ہے؟ تیرے بیان کو ہم اللہ کے صحیفوں میں موجود في صحف الله بيانك وما نَرى نہیں پاتے اور نہ دیکھتے ہیں۔کیا اللہ کے نشانوں أتعجب من آيات الله وكان الله پر تو تعجب کرتا ہے؟ حالانکہ اللہ ہر چیز پر پوری پوری على كلّ شيءٍ مُقْتَدِرا؟ ألا ترى أن قدرت رکھتا ہے۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ وبا کی آگ نار الوباء مشتعلة، وموت الناس بھڑک رہی ہے اور لوگوں کی موت قطار در قطار كالقلاص متتابعة ، والطاعون فی اونٹیوں کی طرح واقع ہو رہی ہے اور طاعون الاقتناص لا يغادر ذكرًا ولا أُنثى؟ شکار کرنے میں لگی ہوئی ہے نہ کسی مرد کو چھوڑتی فلو كنتُ كذوبا لأخذني رُعب ہے اور نہ عورت کو۔پس اگر میں جھوٹا ہوتا تو لازماً العقوبة، وما اجترأتُ على مثل عقوبت کا رعب مجھ پر طاری ہو جاتا۔اور هذا عند هذه الطوائف گروہوں کی تباہی اور مخلوق کی ہلاکت کے اس دور المخدوبة والخليقة المشغوبة، میں کبھی ایسا کرنے کی جرأت نہ کرتا۔اگر میں ولو كنتُ متقولا ومزوّر الإراءة كرامت کی نمائش کرنے کے لئے افتر ا کرنے والا الكرامة، ما كانت لي جرأة أن اور جھوٹ بولنے والا ہوتا تو مجھ میں یہ جرات نہ أتفوه بكلمة عند قيام هذه ہوتی کہ (طاعون ) کی اس قیامت کے برپا ہونے