مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 163

مواهب الرحمن ۱۶۳ اردو تر جمه نفسك والوقت أضعت أما ما | ظلم کیا۔اور وقت ضائع کیا۔اور یہ جو تم نے اپنی أنكرت في كتابك بلاغة تحریر میں میرے قصیدے کی بلاغت سے انکار کیا قصيدتي، وما أكلت عصيدتی ہے جبکہ تو نے میرا حلوہ چکھا ہی نہیں تو میں اس کا فلا أعلم سببه إلا جهلك سبب تمہاری جہالت، گند ذہنی، تعصب اور کمینگی وغباوتك وتعقبك ودناء تك كے سوا کچھ نہیں پاتا۔اے جاہل مطلق ! اٹھ اور أيها الجهول ! قم وتصفح دواوين شعراء کے دیوانوں کی ورق گردانی کر تا کہ ادب۔الشعراء ، ليظهر لك منهاج اور ادبیوں کا اُسلوب تجھ پر ظاہر ہو۔کیا تم صحیح کو غلط الأدب والأدباء أتغلط ٹھہراتے اور حسن کو فتیح خیال کرتے ہو۔نجاست صحيحا وتظن الحَسَن قبيحاء کھاتے ہو اور نفاست سے کراہت کرتے ہو۔وتأكل النجاسة وتعاف النفاسة؟ ليس في جعبتك منزع، تمہارے ترکش میں کوئی تیر نہیں رہا۔پس عیب چینی فظهر لك في التزرى مطمع میں تمہاری رغبت بڑھ گئی ہے اور اسی طرح ہمیشہ وكذالك جرت عادة السفهاء سے بیوقوفوں کا دستور رہا ہے کہ وہ ہمیشہ (دوسروں أنهم يخفون جهلهم بالازدراء کی عیب جوئی کے ذریعہ اپنی جہالت پر پردہ ويل لك ! ما نظرت إلى غزارة ڈالتے ہیں۔تف ہے تجھ پر! کہ نہ تو تم نے بلند المعاني العالية، ولا إلى لطافة پایہ معانی کی کثرت کی طرف نگاہ کی اور نہ ہی جلیل الألفاظ الغالية، واستقريت القَذَرَ القدر الفاظ کی لطافت کی جانب التفات کیا۔اور أساليب الكلام، ولا في المنطق كَالَّا ذِيَّةِ ما فكرت فی حسن لکھیوں کی طرح گندگی پر جا پڑے۔تم نے نہ تو ،۔ونظامه التام۔أيها الغبى ! علمتُ اسالیب کلام کے حسن پر اور نہ ہی زبان اور اس کے من هذا أنك ما ذقت شيئا من کامل نظام پر غور کیا۔اے نبی ! اس سے مجھے معلوم ہوا اللسان، ولا تعلم ما حسن کہ تم نے اس زبان کا کوئی مزہ ہی نہیں چکھا اور نہ تم البيان، ونزوت كالسرحان قبل یہ جانتے ہو کہ حسنِ بیان کیا ہے۔اور تو فہم وعرفان الفهم والعرفان أبهذا تُبارينا في سے پہلے ہی بھیڑیے کی طرح جھپٹا ہے۔کیا اس