مواہب الرحمٰن — Page 146
مواهب الرحمن من ۱۴۶ اردو تر جمه وكذالك جعل لكل عدو نصيبا | ہر دشمن کے نصیب میں ذلت رکھ دی۔اور ان کی یہ الذلّة، ذالك بما عصوا أمر حالت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اپنے رب کے ربهم وقاموا للمقابلة۔وعُرض حکم کی نافرمانی کی اور مقابلے پر کھڑے ہو گئے۔عليهم الآيات كا لقسطاس ان کے سامنے ان نشانات کو میزان عدل اور معیار المستقيم والمعيار القويم صحیح کے مطابق پیش کیا گیا۔لیکن انہوں نے ان فأعرضوا عنها كالضنين اللئيم، نشانات سے ایک بخیل کمینے کی طرح منہ پھیر لیا۔فسوف يعلمون إذا رجعوا إلى پس جب وہ خدائے علیم کے حضور لوٹ کر جائیں الله العليم۔وليس بحاجة أن گے تو وہ ضرور جان لیں گے۔ضروری نہیں کہ ہم نکتب ههنا تلك الآيات ان سب نشانات کو یہاں تحریر کریں۔اس لئے ہم فنكتفى بآيات ظهرت في هذه صرف اُنہیں نشانات پر اکتفا کریں گے جو ان السنوات۔فمنها أن الله كان (تین) سالوں میں ظاہر ہوئے۔ان میں سے وعــدنــي وعــدا أشعته في كتابي "البراهين"، وقد مضت عليه مدة بأفواج من المصدقين ایک یہ ہے کہ اللہ نے مجھ سے ایک وعدہ فرمایا جسے میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں شائع کر دیا أزيد من عشرين، وكان خلاصة تھا اور جس پر میں سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ما وعد أنه لا يذرني فردا كما ہے۔اس الہی وعدہ کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ مجھے كنت في ذالك الحين، ويأتي تنہا نہیں رہنے دے گا جیسا کہ میں اُس وقت تھا۔المخلصين ولا يتركنى وحيدا اور وہ تصدیق کرنے والے مخلصین کی فوجیں۔۱۱۸ طريدًا كمثل الكاذبين المفترين لائے گا۔اور مجھے جھوٹے مفتریوں کی طرح تنہا اور بل يجمع على بابي جنودا من راندہ نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ خدام کی فوجیں الخادمين۔يأتون بأموال میرے دروازے پر جمع کر دے گا۔وہ دور دراز ملکوں وتحائف من ديار بعيدة، ويبلغ سے اموال و تحائف لائیں گے۔اور اُن کی تعداد اس عدتهم إلى حد لم يُعْطَ عِلمه حد تک پہنچ جائے گی کہ جس کا علم اغیار و احباب